ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کردہ پالیسی پیپر ’جیل کی دیواروں سے آگے: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی تعداد میں کمی کے لیے اصلاحات‘ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں بڑھتی ہوئی تعداد محض مزید جیلیں تعمیر کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ نظامِ انصاف میں موجود بنیادی خامیوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
پالیسی پیپر کے مطابق 2024 کے سرکاری اعداد و شمار میں پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد دستیاب گنجائش سے اوسطاً 152 فیصد زیادہ تھی، جبکہ تقریباً ہر چار میں سے تین قیدیوں کے مقدمات زیرِ سماعت تھے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق جیلوں میں حد سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کے باعث قیدیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ ان مسائل میں صفائی ستھرائی اور علاج معالجے کی ناکافی سہولیات، متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ، ذہنی صحت کے مسائل، تشدد اور قیدیوں کی اصلاح و بحالی کے مواقع میں کمی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نئی جیلوں کی تعمیر کو پیش رفت قرار دیا جاتا ہے، تاہم صرف جیلوں کی گنجائش بڑھانے سے گنجائش سے زائد قیدیوں کی بنیادی وجوہات ختم نہیں ہوں گی۔
ایچ آر سی پی نے جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی بڑی وجوہات میں ضمانت کے غیر مؤثر قوانین، مقدمے سے قبل حراست پر حد سے زیادہ انحصار، طویل عدالتی کارروائیاں، پروبیشن اور پیرول کے محدود استعمال اور معمولی جرائم میں ملوث افراد کو بھی قید رکھنے کی پالیسی کی نشاندہی کی ہے۔
پالیسی پیپر میں قید پر انحصار کم کرکے آزادی، اصلاح اور متبادل سزاؤں پر مبنی نظام کی طرف بڑھنے پر زور دیا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ ضمانت کے قوانین کو بے گناہی کے آئینی اصول سے ہم آہنگ کیا جائے اور پولیس و استغاثہ پر یہ ذمہ داری عائد کی جائے کہ وہ عدالت کے سامنے یہ ثابت کریں کہ کسی شخص کو حراست میں رکھنا کیوں ضروری ہے۔
کمیشن کے مطابق عدالتوں کو جسمانی اور عدالتی ریمانڈ کے اختیارات کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے اور حراست کی وجوہات واضح طور پر بیان کرنی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ بچے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے مزدوری کر رہے ہیں، یونیسف
ایچ آر سی پی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کو ضمانت کی بنیاد قرار دینے کے اصول پر سختی سے عمل کیا جائے۔
پالیسی پیپر میں آزادانہ پراسیکیوشن سروسز کو مضبوط بنانے، مقدمات کے متبادل حل کے طریقہ کار کو فروغ دینے اور پروبیشن و پیرول کو عام قیدیوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے صرف انفراسٹرکچر میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ ایسے عدالتی اور قانونی طریقہ کار میں اصلاحات ضروری ہیں جو لوگوں کو غیر ضروری طور پر جیلوں تک پہنچاتے اور طویل عرصے تک قید رکھتے ہیں۔







