آئی ایم ایف کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے چوتھے جائزے، 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے اور آرٹیکل فور مشاورت سے متعلق مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ تاہم مجوزہ رقم کا اجرا آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک جاری رہے، جن میں معاشی اور مالیاتی پالیسیوں، اصلاحات اور مختلف شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اسٹاف لیول معاہدے کے بعد اب آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ پروگرام کے جائزے اور متعلقہ اصلاحات کی منظوری دے گا، جس کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی فنانسنگ دستیاب ہوسکتی ہے۔ اس رقم میں مختلف پروگرامز کے تحت مالی معاونت شامل ہوگی۔

پاکستانی حکام کے مطابق حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ معیشت میں استحکام کے لیے نجکاری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور مالیاتی نظم و ضبط پر توجہ دی جارہی ہے۔

حکام کے مطابق سرکاری اداروں کے حوالے سے نجکاری کے عمل کو تیز کیا جارہا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کے مالی بوجھ کو کم کرنے اور معیشت میں نجی شعبے کا کردار بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کو بھی اصلاحاتی پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانے، بجلی چوری اور لائن لاسز پر قابو پانے اور وصولیوں کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

گیس سیکٹر سے متعلق بھی حکومت کا کہنا ہے کہ گردشی قرضے میں اضافے کو روکنے کے لیے اصلاحات کی جارہی ہیں۔ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ طویل عرصے سے پاکستان کے مالیاتی نظام پر دباؤ کا ایک اہم سبب رہا ہے، اسی لیے آئی ایم ایف پروگرام میں توانائی کے شعبے کی مالی پائیداری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے جائزوں میں پاکستان کے معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات پر بھی توجہ مرکوز رہی۔ آئی ایم ایف پہلے بھی پاکستان سے سرکاری اداروں میں اصلاحات، نجکاری، حکومتی مداخلت کم کرنے، مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے اور نجی شعبے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔

آئی ایم ایف کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کا موجودہ 37 ماہ کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام ستمبر 2024 میں منظور ہوا تھا اور اس کی مجموعی مالیت تقریباً 5.32 ارب ایس ڈی آر ہے، جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت بھی پاکستان کے لیے مالی معاونت کا انتظام موجود ہے۔

حالیہ اسٹاف لیول معاہدہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر بین الاقوامی ذرائع سے مالی معاونت کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم حتمی طور پر فنڈز کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ضروری ہوگی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا بنیادی مقصد مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانا، توانائی کے شعبے کے نقصانات کم کرنا، سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانا اور معیشت کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، جغرافیائی کشیدگی اور عالمی تجارت میں ممکنہ رکاوٹوں کو پاکستان سمیت ترقی پذیر معیشتوں کے لیے خطرات میں شمار کیا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی عالمی معیشت کے لیے بلند توانائی قیمتوں اور جغرافیائی تنازعات سے پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تازہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے، مالیاتی خسارے کو محدود کرنے اور توانائی و سرکاری اداروں میں اصلاحات آگے بڑھانے کی کوششیں کررہی ہے۔ اسٹاف لیول معاہدے کے بعد اب نظریں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے آئندہ فیصلے پر ہیں، جس کے بعد پاکستان کے لیے متوقع فنانسنگ کی حتمی منظوری کا مرحلہ مکمل ہوگا۔