اسپتال حکام کے مطابق نانا پاٹیکر کو شدید کارڈیک اریسٹ کے بعد اسپتال لایا گیا تھا۔ منی پال اسپتال کے ڈاکٹر شیکھر سالکر کے مطابق طبی ٹیم نے تقریباً 45 منٹ تک مسلسل سی پی آر کے ذریعے ان کی جان بچانے کی کوشش کی، تاہم ان کی حالت میں بہتری نہ آسکی اور انہیں صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر گوا کے علاقے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے جہاں انہیں اچانک طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے بعد میڈیکو لیگل کیس بھی درج کیا گیا ہے، جبکہ موت کی حتمی وجوہات اور حالات کی مزید وضاحت کے لیے پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

نانا پاٹیکر کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا اور وہ یکم جنوری 1951 کو بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں پیدا ہوئے، اپنے فنی سفر کا آغاز تھیٹر سے کیا اور بعد ازاں فلمی دنیا کا رخ کیا۔ 1978 میں فلم ’گمن‘ سے ان کا فلمی سفر شروع ہوا، جس کے بعد انہوں نے ہندی اور مراٹھی سینما میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔

نانا پاٹیکر کو ان کی جاندار اداکاری، منفرد مکالمہ ادائیگی اور پیچیدہ کرداروں کو مؤثر انداز میں نبھانے کے باعث خاص شہرت حاصل ہوئی۔ ’سلام بمبئی!‘، ’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’اب تک چھپن‘ اور ’ویلکم‘ سمیت متعدد فلموں میں ان کی اداکاری کو ناظرین اور ناقدین نے سراہا۔ مراٹھی فلم ’نٹ سمراٹ‘ میں بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔

فلمی اداکاری کے علاوہ نانا پاٹیکر نے ہدایت کاری اور دیگر تخلیقی شعبوں میں بھی کام کیا۔ 1991 میں انہوں نے فلم ’پراہار‘ کی ہدایت کاری کی، جبکہ ان کا فنی سفر کئی دہائیوں پر محیط رہا جس میں انہوں نے سنجیدہ، ایکشن اور مزاحیہ سمیت مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔

نانا پاٹیکر کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں تین نیشنل فلم ایوارڈز ملے جبکہ 2013 میں بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔ ان کی اداکاری نے انہیں ہندی اور مراٹھی دونوں فلمی صنعتوں میں نمایاں مقام دلایا۔

اداکار نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل کمرشل آرٹسٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ ابتدائی زندگی میں انہوں نے فلموں کے پوسٹرز بنانے سمیت مختلف کام کیے۔ بعد ازاں تھیٹر سے وابستگی نے انہیں اداکاری کے شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا اور انہوں نے اپنی منفرد اداکاری کے باعث بہت جلد فلمی صنعت میں جگہ بنالی۔

نانا پاٹیکر کے خاندانی ذرائع کے مطابق ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے بھی فلمی شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ملہار نے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کرنے کا بتایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر کی آخری برسوں میں بھی فلمی سرگرمیوں سے وابستگی برقرار رہی۔ ان کی طویل فنی زندگی میں تھیٹر، ہندی سینما اور مراٹھی فلموں کے علاوہ ہدایت کاری بھی شامل رہی، جبکہ ان کی مخصوص آواز، مکالمہ ادا کرنے کا انداز اور سنجیدہ کرداروں کی وجہ سے انہیں بھارتی سینما کے منفرد اداکاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بھارتی فلمی صنعت اور ان کے مداحوں کی جانب سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت مختلف شخصیات نے بھی اداکار کے انتقال پر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

نانا پاٹیکر کے انتقال کے ساتھ بھارتی سینما نے ایسے فنکار کو کھو دیا ہے جس نے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر میں تھیٹر اور فلم دونوں شعبوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے انتقال سے متعلق میڈیکو لیگل کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔