لیکن تنوشری دتہ اور نانا پاٹیکر کے درمیان ایسا کیا ہوا تھا کہ تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ تنازع ختم نہیں ہو سکا؟ اور قانونی کارروائی ختم ہونے کے بعد بھی تنوشری کیوں کہتی رہی ہیں کہ انہیں انصاف نہیں ملا؟

اس کہانی کا آغاز 2008 میں ہوتا ہے، جب تنوشری دتہ فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کے ایک گانے کی شوٹنگ کر رہی تھیں۔

تنوشری کے مطابق، اس دوران نانا پاٹیکر نے انہیں نامناسب انداز میں چھونے اور رقص کے ایسے مراحل میں شامل ہونے کی کوشش کی جن پر وہ رضامند نہیں تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ نانا پاٹیکر ابتدا میں اس گانے کا حصہ نہیں تھے، لیکن بعد میں شوٹنگ میں شامل ہو گئے۔

تنوشری نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جب انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو شوٹنگ کے بعد ان کی گاڑی کو ایک ہجوم نے گھیر لیا اور اس پر حملہ کیا گیا۔

اس وقت یہ معاملہ زیادہ توجہ حاصل نہیں کر سکا، تاہم دس برس بعد، 2018 میں، تنوشری نے ایک انٹرویو کے دوران ان واقعات کا دوبارہ ذکر کیا۔

یہ وہ دور تھا جب انڈیا میں ’می ٹو‘ تحریک زور پکڑ رہی تھی اور خواتین فلمی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں مبینہ جنسی ہراسانی کے واقعات بیان کر رہی تھیں۔

تنوشری کے الزامات نے بالی وڈ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ نانا پاٹیکر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

بعد ازاں تنوشری کی شکایت پر ممبئی پولیس نے نانا پاٹیکر اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔ 2019 میں پولیس نے شواہد کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمہ بند کرنے کی سفارش پر مشتمل رپورٹ جمع کرا دی۔

مارچ 2025 میں ممبئی کی ایک عدالت نے بھی اس معاملے میں قانونی کارروائی ختم کر دی۔ یوں یہ الزامات عدالتی ٹرائل تک نہیں پہنچے اور عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔

تاہم قانونی کارروائی ختم ہونے کے باوجود تنوشری کا کہنا تھا کہ انہیں انصاف نہیں ملا۔

جولائی 2025 میں این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، ان کا پیچھا کیا جاتا ہے اور انہیں اپنی حفاظت کے حوالے سے خدشات ہیں۔ انہوں نے ان خدشات کو انڈرورلڈ سے بھی جوڑا۔

تنوشری کے بقول، ’مجھے ختم کرنے کے لیے انڈرورلڈ کو پانچ کروڑ روپے کی سپاری دی گئی تھی۔‘

نانا پاٹیکر ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

نانا پاٹیکر کی موت اور تنوشری کا ردعمل

آٹھ اکتوبر 2026 کو نانا پاٹیکر کی موت کی خبر سامنے آئی تو تنوشری دتہ نے ابتدا میں کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اس خبر پر کس طرح ردعمل دیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے لکھنؤ جا رہی ہیں اور اپنی توجہ کام پر رکھنا چاہتی ہیں۔ تنوشری نے نانا پاٹیکر کے خاندان سے تعزیت بھی کی، تاہم بعد میں ان کا لہجہ سخت ہو گیا۔

اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے لکھا، ’شیطان مر گیا‘ اور امید ظاہر کی کہ اب ان کی زندگی بہتر سمت میں آگے بڑھے گی۔

تنوشری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں اپنی شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور مالی پیشکش کے ذریعے اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے اپنی ہیئر ڈریسر کا بھی ذکر کیا، جنہیں وہ اس معاملے میں ایک اہم گواہ قرار دیتی ہیں۔ تنوشری کے مطابق، ان کی ہیئر ڈریسر نے حلف نامہ جمع کرایا تھا، لیکن ان پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔

فلمی صنعت کا ردعمل

تنوشری دتہ کے سخت بیان پر انڈیا کی فلمی صنعت میں ردعمل سامنے آیا ہے۔ آل انڈیا سینی ورکرز ایسوسی ایشن نے ان کے تبصروں کو نامناسب قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

تنوشری نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ردعمل ان تجربات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جن کا وہ طویل عرصے سے ذکر کرتی رہی ہیں۔

اس معاملے میں ایک طرف تنوشری دتہ اپنے ساتھ مبینہ طور پر پیش آنے والے واقعات اور انصاف نہ ملنے کی شکایت کرتی رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف نانا پاٹیکر ان الزامات کو مسترد کرتے رہے اور قانونی کارروائی شواہد کی کمی کے باعث ختم ہو گئی۔

یوں تقریباً دو دہائیوں پر محیط یہ تنازع قانونی طور پر ختم ہونے کے باوجود ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ تنوشری کے حالیہ بیان نے نہ صرف ان کے ماضی کے الزامات کو دوبارہ توجہ دلائی ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کسی قانونی مقدمے کے اختتام اور متاثرہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے فرد کے احساسِ انصاف کے درمیان کتنا فاصلہ ہو سکتا ہے۔