پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی حکم نامے پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جہاں قومی سلامتی کا مسئلہ درپیش ہو، وہاں سیاست کے بجائے ریاست کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سارے عمل کو جمہوری اور آئینی انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ نے صدر مملکت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قراردادیں منظور کرکے اس عمل کی توثیق کی۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ 1973 کا آئین ایک متفقہ دستاویز ہے، جسے بڑی باریک بینی سے تیار کیا گیا۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت ضروری تھا کہ دونوں ایوان الگ الگ اجلاسوں میں صورت حال کا جائزہ لیں اور قراردادوں کے ذریعے اس کی توثیق کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کا اقدام آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا۔ اس سے قبل صوبائی حکومت کو صورت حال سے متعدد بار آگاہ کیا گیا، جب کہ وفاقی وزیر داخلہ پشاور کے دورے کرتے رہے اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس بھی منعقد ہوتے رہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کی جنگ دن بدن شدت اختیار کر رہی ہے اور اس صورت حال میں سرحد پار سے مداخلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور باجوڑ میں ایک ہی روز دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جن میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کے سربراہ کو متاثرہ علاقوں میں موجود ہونا چاہیے، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی توجہ ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز رہی۔
وفاقی وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ 2025 میں سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا منصب سنبھالنے کے بعد سے صوبے میں دہشت گردی کے 3 ہزار 787 واقعات پیش آئے، جبکہ اس سے قبل تین سال کے دوران دہشت گردی کے 2 ہزار 900 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صورت حال خراب ہے، سرحد پار سے بھی مداخلت ہو رہی ہے اور علما سمیت شہری جانیں گنوا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ریاست کو ترجیح دی جانی چاہیے اور سیاسی معاملات کو پسِ پشت ڈالنا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے صوبے کی صورت حال سے صدر مملکت کو باقاعدہ آگاہ کیا، جس کے بعد آئینی عمل آگے بڑھایا گیا۔ قومی سلامتی سے متعلق معاملات جب عدالتوں میں گئے تو انہیں ان کیمرہ بھی زیرِ غور لایا گیا۔
آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کی داخلی صورت حال بھی خراب تھی۔ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 2010 سے این ایف سی کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ دیا جا رہا ہے، جو رواں سال تقریباً 13 ارب روپے بنتا ہے، تاہم صوبے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا ڈھانچہ مکمل طور پر فعال نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اس معاملے پر ڈھائی گھنٹے تک تفصیلی غور کیا اور اجتماعی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کی آخری کوشش بھی کی، جس دوران دونوں جانب سے اس معاملے پر رائے دی گئی۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اب یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ پورے معاملے کا جائزہ لے، کیونکہ آئین پاکستان کے تحت اس حوالے سے تمام تر اختیار پارلیمان کے پاس ہے۔







