روئٹرز کے مطابق جمعرات کو پیش آنے والے اس افسوس ناک واقعے میں کم از کم21 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر جان سے گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق جاں بحق بچوں اور خاتون ٹیچر کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والے 17 بچوں کو بھی طبی امداد کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچایا گیا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردی گئیں۔ واقعہ پشاور کی دیر کالونی میں پیش آیا، جہاں ریسکیو اہلکاروں نے پہنچتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ایمبولینسوں اور ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیوں کو بھی موقع پر پہنچایا گیا تاکہ ملبے میں پھنسے بچوں اور دیگر افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا جاسکے۔

ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی کارروائی کے دوران ملبے سے متعدد افراد کو نکالا گیا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچایا گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ متاثرہ خاندان اپنے بچوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے جائے وقوعہ اور اسپتال پہنچ گئے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 21 بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ زخمی بچوں کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ حادثے میں متاثر ہونے والے بچوں کی عمریں 13 سال تک بتائی گئی ہیں۔

واقعے کی سنگینی کے پیش نظر لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تاکہ زخمی بچوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ اسپتال کے عملے کو متاثرہ بچوں کے علاج اور ضروری طبی امداد کی فراہمی کے لیے متحرک کیا گیا۔

اس افسوس ناک حادثے نے اسکولوں کی عمارتوں کی مضبوطی اور طلبہ کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ تاہم چھت گرنے کی حتمی وجہ، عمارت کی تعمیراتی حالت اور ممکنہ غفلت سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کے لیے متعلقہ حکام کی تحقیقات ضروری ہوں گی۔

پشاور میں پیش آنے والے اس سانحے میں کمسن بچوں کی ہلاکت پر متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے کا سامنا ہے۔ حادثے کے بعد زخمیوں کی صحت یابی اور واقعے کی وجوہات کا تعین اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔