سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پوری قوم غمگین ہے، پھول جیسے بچے حکمرانوں کی غفلت اور نااہلی کا شکار ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں پیش آیا ہے۔ عمارت گرنے کے نتیجے میں اموات کے واقعات کراچی اور لاہور میں بھی پیش آچکے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ کتنا بڑا قومی المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں 40، 18 اور 13 سال تک صوبوں پر حکومت کرتی ہیں، مگر نچلی سطح تک بلدیاتی نظام اور منتخب نمائندوں کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایک عمارت تعمیر کرنے کے لیے کام شروع کیا جائے تو درجنوں ادارے رشوت طلب کرنے پہنچ جاتے ہیں، جبکہ اہل علاقہ کسی عمارت کی خستہ حالی کی نشاندہی کریں تو کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہوتا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلڈنگ کنٹرول کے محکمے صوبائی حکومتوں کے بجائے بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلڈنگ کنٹرول کے محکمے بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہونے سے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام ممکن ہوگی اور اہل علاقہ فوری طور پر ذمہ داران کا احتساب کرسکیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی حکومتیں قائم کرکے ہی عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے۔







