وزیراعظم نے نوجوان طالبہ کی موت کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 20 سالہ لائبہ اعجاز کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلے اور سفری دستاویزات کے انتظام کے نام پر ایک ایجنٹ نے ان سے بھاری رقم وصول کی۔ بعد ازاں فراہم کردہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔

پولیس کے مطابق لائبہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں اتوار بازار کے قریب ایک گرین بیلٹ سے ملی۔ حکام نے واقعے کو بظاہر خودکشی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم موت کی حتمی وجوہات اور دیگر حقائق کے تعین کے لیے تفتیش جاری ہے۔

مختلف میڈیا رپورٹس میں فراڈ کی رقم کے حوالے سے مختلف اعدادوشمار سامنے آئے ہیں، جب کہ اہلِ خانہ نے مزید تعلیم کے لیے امریکا جانے کی کوشش کے دوران مالی نقصان کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے لائبہ کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا ہے۔ حکام مبینہ فراڈ میں ملوث ایجنٹ اور فراہم کردہ دستاویزات کی جانچ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسناد کی تصدیق کے نام پر فراڈ؛ایچ ای سی نے انتباہ جاری کردیا

دوسری جانب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ترجمان کے مطابق لائبہ نے چند سال قبل بی ایس فزکس کی ڈگری مکمل کر لی تھی اور واقعے کے وقت وہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم نہیں تھیں۔ یونیورسٹی نے تحقیقات میں متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے فوری گرفتاری کی ہدایت کے بعد اب تحقیقات اور مبینہ فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔