سی ٹی ڈی بلوچستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بارکھان میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس پر متعلقہ علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 10 دہشت گرد مارے گئے۔

ترجمان کے مطابق آپریشن کے بعد ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے، کارروائی کا مقصد علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خطرے کو ختم کرنا اور امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنانا تھا۔

سی ٹی ڈی بلوچستان کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں محکمے کے 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ترجمان سی ٹی ڈی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کے لیے پُرعزم ہیں اور امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جارہی ہیں۔

حکام کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بارکھان میں ہونے والے اس آپریشن سے متعلق مزید تفصیلات، بشمول برآمد ہونے والے اسلحے کی نوعیت اور ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، تاحال جاری کردہ بیان میں سامنے نہیں آئیں۔

سی ٹی ڈی بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔