حراست میں لیے جانے کے بعد عمران خان نے پولیس وین کے اندر اپنی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ بظاہر وہ سیر کے لیے جا رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ وہ کسی خاص مطالبے کے ساتھ نہیں بلکہ ممبئی کے ایک شہری کی حیثیت سے احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں کیوں عائد کی جا رہی ہیں اور لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ان کے کوئی مطالبات نہیں ہیں اور وہ شہر میں رہنے والے ایک عام شہری کی حیثیت سے وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نقل و حرکت کی آزادی محدود کرنے اور لوگوں کو اپنی آواز بلند کرنے سے روکنے کی وجوہات کیا ہیں۔

اداکار نے مزید وضاحت کی کہ وہ کسی تنظیم کا حصہ نہیں ہیں اور انفرادی حیثیت میں احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں لوگوں سے مطالبات کرنے کا کوئی حق نہیں، تاہم وہ ایک شہری کی حیثیت سے اپنا مؤقف سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

عمران خان کو اگست کرانتی میدان میں پولیس کی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ممبئی میں احتجاج کے مقام سے 400 سے زائد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق قومی دارالحکومت میں بھی کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران تقریباً ایک ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے اور جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔