وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے گئے اور متاثرہ علاقوں میں امن بحال کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی گئی، تاہم ان کے بقول تحریک انصاف کی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افراد کو واپس لاکر آباد کرنے کی پالیسی اختیار کی، جس سے صوبے میں امن و امان کی صورت حال متاثر ہوئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کی قیادت دہشت گردوں کے حوالے سے نرم رویہ رکھتی ہے اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے، سیکیورٹی فورسز ایک طرف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف سیاسی سطح پر اختیار کی جانے والی بعض پالیسیوں کے باعث امن کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام مسلسل دہشت گردی، بدامنی اور جانی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں، ریسکیو کارکنوں اور عام شہریوں کی شہادتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف واضح حکمت عملی بنائے اور متعلقہ اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
وفاقی وزیر نے خواتین سے متعلق بعض مبینہ سخت گیر نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسی سوچ کو صوبے کے عوام پر مسلط کرنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے جس میں خواتین کی نقل و حرکت، تعلیم اور کھیلوں میں شرکت محدود ہو، خیبر پختونخوا کے عوام کو انتہاپسندانہ سوچ کے بجائے تعلیم، ترقی اور جدید سہولتوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کوہاٹ میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کے اہل خانہ جواب اور انصاف کے منتظر ہیں، جب پولیس اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہوں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بھرپور اقدامات کرے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے۔
عطا اللہ تارڑ نے کوہاٹ، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے جس سنجیدگی اور تسلسل کی ضرورت ہے، وہ حکومتی اقدامات میں نظر نہیں آتا۔ تاہم ان واقعات کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی جماعت کی پالیسیوں پر عائد کرنے کے لیے متعلقہ شواہد اور واقعات کی الگ الگ جانچ ضروری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت خیبر پختونخوا کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے فراہم ہونے والے مالی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے کو اس مد میں تقریباً 700 ارب روپے ملے، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی سے نمٹنے کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ ان وسائل کو کہاں اور کس طرح استعمال کیا گیا اور عوام کو اس مد میں کیا عملی نتائج حاصل ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کرنا ضروری ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ صوبے میں سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے، پولیس کو جدید آلات سے لیس کرنے اور حساس علاقوں میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں اور حساس مقامات پر سیف سٹی منصوبوں، جدید کیمروں اور مؤثر نگرانی کے نظام کی مدد سے مشتبہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ضلعی داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے، صوبائی حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے واضح اہداف مقرر کرکے ان پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔
عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے بجائے سیاسی احتجاج کو ترجیح دینے کا الزام بھی عائد کیا، صوبے میں تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کی سرگرمیوں کا بڑا حصہ سیاسی محاذ آرائی میں صرف ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کی رہائی یا کسی جماعت کے سیاسی مطالبات اپنی جگہ، لیکن ان معاملات کو صوبے کے کروڑوں عوام کے مسائل پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کو ایسی حکومت درکار ہے جو انتظامی معاملات چلانے، امن و امان بہتر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے پر توجہ دے
وفاقی وزیر اطلاعات نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے عوام کو صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کیا نمایاں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے نوجوانوں کو جدید تعلیم، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل مہارتوں اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے، جبکہ بچوں کے لیے معیاری تعلیمی اداروں اور شہریوں کے لیے بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یونیورسٹیوں، اسپتالوں، شاہراہوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے ذریعے صوبے میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں ، خیبر پختونخوا میں قدرتی وسائل اور نوجوان افرادی قوت موجود ہے، لیکن ان صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر حکمرانی، طویل المدتی منصوبہ بندی اور وسائل کے شفاف استعمال کی ضرورت ہے۔
انہوں نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ ترقیاتی منصوبوں، انتظامی اقدامات اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ وفاقی وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا میں بھی اسی نوعیت کی ترجیحات اختیار کرکے عوامی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انتظامی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی تربیت کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے اور معاشی مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ایندھن ریلیف اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے ایک کروڑ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچا ہے، عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ان کے معاشی مسائل کم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی، غربت، روزگار کی کمی اور بنیادی سہولتوں سے متعلق متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو ان معاملات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کوششوں کے ساتھ سیاسی قیادت، انتظامیہ اور عوام کے درمیان مؤثر تعاون بھی ضروری ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر الزام عائد کیا کہ وہ قومی اور عوامی مسائل کے مقابلے میں سیاسی مفادات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے، پولیس کی استعداد بڑھانے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق صوبے کے مستقبل کا انحصار مؤثر حکمرانی، امن و امان، جدید تعلیم اور معاشی ترقی پر ہے، اس لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عوام کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔







