میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ وہ 15 اکتوبر 2025 کے بعد سے عمران خان سے نہیں ملے اور اس کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے انہوں نے متعدد مرتبہ درخواست کی، تاہم انہیں ایک بار بھی ملاقات کی پیشکش یا اجازت نہیں دی گئی۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ وہ ایک بار پھر متعلقہ حکام سے درخواست کریں گے کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ان کے اہل خانہ اور وکلا کو بھی ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ان کی خیریت سے آگاہ ہوسکیں اور قانونی امور پر مشاورت کرسکیں
ملاقات سے متعلق یہ دعویٰ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے کہا تھا کہ وہ گزشتہ روز ایک جگہ موجود تھے جہاں انہیں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، عمران خان سے ملاقات کرکے آئے ہیں۔
سلیم مانڈوی والا نے اس موقع پر عمران خان کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بھی غلط قرار دیا تھا۔
تاہم بیرسٹر گوہر علی خان نے اس دعوے کی واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 اکتوبر 2025 کے بعد ان کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی
پی ٹی آئی چیئرمین نے ایک مرتبہ پھر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بانی سے ان کے اہل خانہ اور وکلا کو ملاقات کا حق دیا جانا چاہیے۔
عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں اور ان تک اہل خانہ اور وکلا کی رسائی کا معاملہ اس سے قبل بھی سیاسی اور قانونی حلقوں میں زیرِ بحث رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔







