خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے دوران احتجاج اور جلسے جلوسوں کی آڑ میں فوجی اور پولیس تنصیبات یا سیکیورٹی چوکیوں کے قریب افراتفری پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، ریاستی اداروں کو اس مبینہ منصوبے سے متعلق اطلاعات پہلے ہی موصول ہوچکی ہیں۔
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور لانگ مارچ کے منتظمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر احتجاج کے کسی مرحلے میں 9 مئی 2023 جیسے پرتشدد واقعات دہرانے کی کوشش کی گئی تو ریاست کی جانب سے سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی، سیاسی احتجاج اور مسلح کارروائی میں واضح فرق ہے اور کسی بھی پرتشدد سرگرمی کو سیاسی جدوجہد کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں جولائی 2024 کے بنوں واقعات کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ لانگ مارچ میں اسی طرز پر حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، 15 جولائی 2024 کو بنوں کینٹ پر ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ کے حملے میں 8 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے، جبکہ اس کے چند روز بعد بنوں میں احتجاج کے دوران بھی کشیدگی اور بدامنی کے واقعات پیش آئے تھے۔
وزیر دفاع کے مطابق 19 جولائی 2024 کو بنوں میں ہونے والے احتجاج کے دوران سیاسی اور قوم پرست عناصر بھی شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین کینٹ کے سپلائی ڈپو کی ایک ٹوٹی ہوئی دیوار سے اندر داخل ہوئے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی جدوجہد آئینی اور جمہوری طریقوں سے کی جاسکتی ہے اور دنیا بھر میں سیاسی اختلافات کے اظہار کے لیے احتجاج اور جلسے جلوس کی روایات موجود ہیں، تاہم ان کے بقول سیاسی سرگرمی کی آڑ میں مسلح بغاوت یا ریاستی تنصیبات پر حملے کو سیاسی احتجاج نہیں سمجھا جائے گا۔
وزیر دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ مبینہ طور پر خیبر پختونخوا تک محدود رکھا جائے گا اور صوبائی حکومت نے ٹی ٹی پی سے وابستہ عناصر کی مبینہ مدد سے بعض گروہوں کو ’بنوں اسٹائل‘ کارروائیوں کے لیے تیار کیا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کر رکھی ہے۔ پارٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مارچ خیبر پختونخوا سے شروع ہوگا، جبکہ اس کے راستے اور مختلف مقامات سے قافلوں کی شرکت سے متعلق شیڈول بھی سامنے آچکا ہے۔
دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 4 اکتوبر کے مارچ سمیت سیاسی معاملات پر بات چیت بھی جاری ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے یکم اکتوبر کو بتایا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان آف دی ریکارڈ مذاکرات ہورہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے انتظامات کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں سیاسی سرگرمی اور ریاستی سلامتی کے معاملات کے درمیان فرق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی جدوجہد کی آڑ میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر مسلح کارروائی کی گئی تو اسے ملک کی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی صورتحال میں ریاست اپنے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گی۔ ان کے بیان میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور لانگ مارچ کے منتظمین کو خاص طور پر متنبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی پرتشدد کارروائی یا ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کا جواب قانون کے مطابق دیا جائے گا۔
دوسری جانب فوج نے بھی حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا تھا کہ کسی بھی جواز یا بہانے کے تحت پرتشدد انتشار، ریاستی اداروں پر حملوں یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے قانون کے مطابق بلاامتیاز اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔
یوں 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی مذاکرات کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی سے متعلق خدشات بھی نمایاں ہوگئے ہیں۔ حکومت احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کو سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے احتجاجی سرگرمی قرار دیا گیا ہے۔ لانگ مارچ کے دوران صورتحال کس سمت جاتی ہے، اس کا انحصار سیاسی مذاکرات، احتجاج کے طریقہ کار اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پر ہوگا۔







