کوئٹہ میں محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور اپنے بچوں کو ان سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ وہ 14 اگست کو اپنے حلقہ انتخاب قلات میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے اور واپسی پر ضلع مستونگ میں کُنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔
ان کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے ان کی گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا تاہم گولیاں ٹائروں پر نہیں لگیں، جس کے بعد سنائپرز نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حملے میں محفوظ رہے تاہم فائرنگ سے ان کے سکواڈ کے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔
ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اب بس بہت ہوگیا۔ بلوچستان کے لوگوں کو نام نہاد آزادی اور بلوچ حقوق کے لیے لڑنے کے دعوے داروں کے کردار پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول یہ عناصر بلوچ روایات کو پامال کر رہے ہیں اور خواتین کی بے توقیری سے بھی گریز نہیں کرتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران قلات میں لوگوں، بالخصوص خواتین کی سہولت کے لیے 30 سے زائد ایمبولینسز فراہم کی گئیں، جنہیں نام نہاد آزادی کے دعوے دار چھین کر لے گئے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ عسکریت پسند مقامی زمینداروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں، جب کہ شاہراہوں پر مبینہ لوٹ مار اور ظلم و زیادتی کے باعث شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر بلوچ عوام کی عزت اور ناموس کے لیے جدوجہد نہیں کر رہے بلکہ بلوچ روایات کی پامالی کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت انڈیا اور افغان طالبان کے ہاتھوں یرغمال ہے۔
ضیاء اللہ لانگو نے عوام پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسند تنظیموں کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں اور اپنے بچوں کو ان کے اثر سے محفوظ رکھیں۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ شاہراہ پر کوئی نو گو ایریا نہیں، تاہم دہشت گرد موجود ہیں۔ ان کے مطابق جب سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو بعض اوقات عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے حکومت اور سکیورٹی فورسز کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔







