50 سالہ فاطمہ زہرا المنصوری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کی تقرری 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے چند روز بعد سامنے آئی، جن میں ان کی جماعت آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (پی اے ایم) نے 395 رکنی ایوان میں 97 نشستیں حاصل کرکے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔

فاطمہ زہرا المنصوری کی تقرری انہیں عرب دنیا میں حکومت کی سربراہ بننے والی صرف دوسری خاتون بھی بناتی ہے۔ اس سے قبل تیونس کی نجلا بودن عرب دنیا میں اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔

بادشاہ کو وزیراعظم مقرر کرنے کا اختیار کیوں ہے؟

مراکش ایک آئینی بادشاہت ہے، جہاں بادشاہ محمد ششم ملک کے اعلیٰ ترین اختیارات رکھنے والی شخصیت ہیں۔ 2011 کی آئینی اصلاحات کے بعد بادشاہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے کرے۔

حالیہ انتخابات میں پی اے ایم نے 97 نشستیں حاصل کیں، تاہم حکومت بنانے کے لیے 395 رکنی پارلیمنٹ میں 198 نشستوں کی ضرورت ہے۔ اس لیے المنصوری کو حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔

فاطمہ زہرا المنصوری کون ہیں؟

فاطمہ زہرا المنصوری پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ وہ 2009 میں پہلی مرتبہ مراکش شہر کی میئر منتخب ہوئی تھیں اور 2021 کے انتخابات کے بعد دوبارہ اس منصب پر آئیں۔

وہ 2008 میں قائم ہونے والی پی اے ایم میں شامل ہوئیں اور بعد میں پارٹی کی اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگیں۔ وہ گزشتہ حکومت میں قومی علاقائی منصوبہ بندی، شہری منصوبہ بندی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ فروری 2024 میں انہیں پی اے ایم کی اجتماعی قیادت میں کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا تھا۔

نئی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

المنصوری کی حکومت کو مراکش میں مہنگائی، روزگار اور اجرتوں سمیت معاشی مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ 2030 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی تیاریوں سے متعلق اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور منصوبوں کی نگرانی بھی نئی حکومت کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہوگی۔ مراکش 2030 کا ورلڈ کپ اسپین اور پرتگال کے ساتھ مشترکہ طور پر میزبانی کرے گا۔

پی اے ایم کو حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں کی ضرورت ہوگی۔ جماعت نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اعتدال پسند اسلام پسند جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) سمیت بعض جماعتوں نے اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔

پی جے ڈی نے حالیہ انتخابات میں 54 نشستیں حاصل کیں، جو 2021 میں حاصل کردہ 13 نشستوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

حالیہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 38 فیصد رہا، جو بادشاہ محمد ششم کے دور میں کم ترین شرحوں میں شامل ہے۔ نئی حکومت کو سیاسی اتحاد بنانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں روزگار، صحت اور تعلیم سے متعلق بڑھتے ہوئے مطالبات کا بھی سامنا ہوگا۔