اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے مؤقف سے متعلق مختلف دعووں اور بیانات کے ذریعے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، بعض باتیں ایران سے منسوب کرکے ایسے دعوے کیے جارہے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں، ایران نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اس حوالے سے تہران کا موقف شفاف ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے جو شرائط پیش کی گئی ہیں، ان میں کوئی ابہام نہیں۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ انہی شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے، جبکہ دیگر متعلقہ معاملات پر بھی ایران کا مؤقف واضح اور پہلے سے بیان کردہ ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت بنیادی موضوع آبنائے ہرمز ہے اور اس معاملے میں ایران کی پوزیشن میں کسی قسم کی تبدیلی یا لچک نہیں آئی، آبنائے ہرمز کی صورتحال کا براہ راست تعلق ایران کی جانب سے اعلان کردہ شرائط سے ہے اور ان شرائط کی تکمیل کے بغیر آبنائے کو کھولنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکتی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ان اطلاعات کی بھی سختی سے تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران جوہری معاملے پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جوہری معاملے پر ایران کی جانب سے لچک دکھانے کی بات بالکل غلط ہے اور وہ ایسی اطلاعات کی واضح طور پر تردید کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے مختلف معاملات سے متعلق مؤقف الگ الگ اور واضح ہے، تاہم اس وقت آبنائے ہرمز کا معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تہران کے مطابق آبنائے کو کھولنے کا فیصلہ اعلان کردہ شرائط کی تکمیل سے ہی منسلک ہے۔

عباس عراقچی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے معاملے کو اپنے اعلان کردہ مطالبات اور شرائط کے تناظر میں دیکھ رہا ہے، جبکہ جوہری معاملے پر کسی ممکنہ نرمی سے متعلق خبروں کو بھی ایرانی وزیر خارجہ نے مسترد کردیا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی اہمیت نمایاں ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کا مؤقف خطے کی سیکیورٹی، عالمی تجارت اور توانائی کی عالمی منڈی کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور جوہری معاملے پر لچک سے متعلق اطلاعات بھی تہران کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔