اسلام آباد میں ’افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیش رفت‘ کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ایک ذمہ دار ریاست کا طرزِ فکر اپنانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو درپیش بیشتر مسائل عسکریت پسندانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں، جب کہ شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، تاہم افغان خواتین کی بڑی تعداد افرادی قوت کا حصہ نہیں اور آبادی کے بعض طبقات کو معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع بھی میسر نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان عوام کے بعض طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ افغانستان میں امن سے پورے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تجارت کو فروغ اور سرمایہ کاری کو تقویت مل سکتی ہے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں علاقائی رابطوں کے فروغ کی بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جہاں امن کی صورت میں وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستے کھولنے میں مدد مل سکتی ہے اور وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک بحریہ کی پہلی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ، طویل فاصلے تک مار کرنے والا شپ کروز میزائل فائر کیا

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے متعدد اعلیٰ سطحی وفود افغانستان بھیج چکا ہے جب کہ استنبول اور دوحہ میں بھی مذاکرات ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، تاہم پُرامن بقائے باہمی کے لیے ’خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو‘ کے اصول کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب شدت سے دے گا، جب کہ صرف امن ہی خطے میں خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔