نتائج کے اعلان اور تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز کو مرحلہ وار ڈیجیٹل نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے، نئے نظام کے تحت امتحانی پرچے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اسکرین کے ذریعے چیک کیے جائیں گے، جبکہ سنٹرلائزڈ مارکنگ کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ جانچ کے معیار میں یکسانیت برقرار رہے۔

رانا سکندر حیات نے بتایا کہ طلبہ کو پہلی مرتبہ کیو آر کوڈ کے ذریعے اپنے امتحانی پرچوں کی آن لائن ری چیکنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی، اس اقدام سے نتائج کے حوالے سے شفافیت بڑھے گی، طلبہ کا اعتماد مضبوط ہوگا اور ری چیکنگ کا عمل پہلے سے زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام میں نقل کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، سخت نگرانی اور مؤثر حکمت عملی کے باعث نقل کرانے والے عناصر کا تقریباً 95 فیصد خاتمہ کیا جا چکا ہے، رواں امتحانات کے دوران امتحانی مراکز کی فروخت یا پرچے حل کروانے کے عوض رقم وصول کرنے جیسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

وزیر تعلیم نے مزید بتایا کہ نتائج کے اجرا کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اب طلبہ کو روایتی ہارڈ کاپی کے بجائے اپنے رزلٹ کارڈ آن لائن دستیاب ہوں گے، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ اپنے اسکول کے پورٹل سے تصدیق شدہ رزلٹ کارڈ حاصل کر سکیں گے، جنہیں علیحدہ تصدیق کی ضرورت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کی رہنمائی اور سہولت کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی چیٹ بوٹ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے امتحانات، نتائج اور دیگر متعلقہ معلومات فوری حاصل کی جا سکیں گی۔ اس سہولت سے طلبہ کو معمولی معلومات کے لیے بورڈ دفاتر جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کا مقصد ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے جہاں ہر طالب علم کو مساوی مواقع، معیاری تعلیم اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے یکساں امکانات میسر ہوں۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ سرکاری جامعات میں داخلوں میں مسلسل اضافہ عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔