انسانی تاریخ میں ایک ایسی چوری بھی گزر چکی ہے جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس واردات میں چاند سے لائے گئے وہ نایاب پتھر غائب کردیے گئے جو سائنسی دنیا کے لیے انتہائی اہم تھے۔ یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں بلکہ جولائی 2002ء کا ایک حقیقی اور دستاویزی واقعہ ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ہیوسٹن میں واقع جانسن اسپیس سینٹر سے کروڑوں ڈالر مالیت کے چاند کے نمونے چوری کیے گئے اور یہ واردات کسی پیشہ ور چور نے نہیں بلکہ ناسا کے 24 سالہ انٹرن تھاڈ رابرٹس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انجام دی۔

ہائی ٹیک سیکیورٹی کو کیسے ناکام بنایا گیا؟

تھاڈ رابرٹس ناسا میں انٹرن کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس کا خواب خلاباز بننا تھا۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھا اور خلائی دنیا میں اپنا مستقبل بنانے کے قریب تھا، لیکن اسی دوران اس نے اپنی گرل فرینڈ، جو خود بھی ناسا میں انٹرن تھی، کو ایسا تحفہ دینے کا منصوبہ بنایا جو شاید دنیا میں کوئی عام شخص دے ہی نہیں سکتا تھا۔

رابرٹس نے ناسا کے اندرونی نظام اور سیکیورٹی سے متعلق اپنی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے چاند کے پتھر چوری کرنے کا منصوبہ بنایا۔

13 جولائی 2002ء کی رات تھاڈ رابرٹس، اس کی گرل فرینڈ ٹفنی فاؤلر اور ایک اور ساتھی شی سور ناسا کی انتہائی محفوظ لیبارٹری میں داخل ہوئے۔ انہوں نے سیکیورٹی کے مختلف نظاموں کو ناکام بنانے کے لیے خاص تیاری کی اور چاند کے نمونے رکھنے والے سیف تک پہنچ گئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ انہیں سیف کا پاس ورڈ معلوم نہیں تھا۔

چنانچہ انہوں نے پاس ورڈ تلاش کرنے یا تالہ توڑنے کے بجائے پورا 600 پاؤنڈ وزنی سیف ہی اٹھا لیا اور اسے گاڑی میں ڈال کر وہاں سے فرار ہوگئے۔

چوری شدہ خزانہ کتنا قیمتی تھا؟

اس بھاری بھرکم سیف میں اپالو مشنز کے دوران چاند سے زمین پر لائے گئے تقریباً 17 پاؤنڈ، یعنی 7.7 کلوگرام، نایاب قمری نمونے موجود تھے۔

یہ صرف چاند کے پتھر نہیں تھے بلکہ ان میں اپالو کے مختلف مشنز سے حاصل کیے گئے نمونے شامل تھے۔ سیف میں مریخ کے شہابِ ثاقب کے نمونے اور ناسا کے ایک سائنس دان کے تقریباً تین دہائیوں پر محیط تحقیقی نوٹس بھی موجود تھے۔

ان نمونوں کی مالیت کا تخمینہ 21 ملین ڈالر سے زائد لگایا گیا تھا، لیکن ان کی اصل اہمیت صرف مالی قدر نہیں بلکہ ان کی سائنسی اور تاریخی حیثیت تھی۔ یہ وہ نمونے تھے جو انسانوں کے چاند تک پہنچنے کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے تھے۔

محبت کے لیے چاند کا ٹکڑا

تھاڈ رابرٹس نے چوری کیے گئے چاند کے نمونے اپنی گرل فرینڈ ٹفنی فاؤلر کو پیش کیے۔

رابرٹس کے مطابق وہ اپنی محبت کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ اس کے جذبات عام دنیاوی چیزوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ چنانچہ اس نے وہ چیز منتخب کی جس تک پہنچنا بھی عام انسان کے لیے تقریباً ناممکن تھا۔ لیکن اس غیر معمولی تحفے کے ساتھ ایک ایسا نقصان بھی ہوا جس کا شاید رابرٹس نے تصور نہیں کیا تھا۔

چاند کے یہ نمونے ناسا کی محفوظ سائنسی تحویل سے باہر نکل کر انسانی ہاتھوں اور زمین کے ماحول کے رابطے میں آگئے۔ اس سے ان کی سائنسی قدر کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تحقیق کے لیے تقریباً بے کار ہوگئے۔

مزید یہ کہ چوری ہونے والے سیف میں موجود ناسا کے سائنس دان ایورٹ گبسن کے تقریباً 30 سال پرانے تحقیقی نوٹس بھی اس واردات کی نذر ہوگئے۔

چاند چوری کرلیا، مگر چھپایا نہ جاسکا

عاشقی کے جوش میں تھاڈ رابرٹس نے چاند کے پتھر تو چوری کرلیے، لیکن اگلا مرحلہ زیادہ مشکل تھا یعنی انہیں بیچنا۔ چوری کے بعد رابرٹس اور اس کے ساتھیوں نے ان قیمتی نمونوں کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کوشش کی۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ممکنہ خریداروں سے رابطہ کیا گیا اور چاند کے پتھروں کی قیمت ہزاروں ڈالر فی گرام تک مقرر کی گئی۔

لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی سرگرمیوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر پڑ چکی ہے۔

ایف بی آئی اور ناسا کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں اور اہلکاروں نے خفیہ خریدار بن کر رابرٹس سے رابطہ کیا۔

ایف بی آئی کا جال اور گرفتاری

20 جولائی 2002ء کو رابرٹس اپنے ساتھیوں کے ساتھ فلوریڈا کے شہر اورلینڈو پہنچا، جہاں اسے امید تھی کہ چاند کے نمونے ایک خفیہ خریدار کو فروخت کردیے جائیں گے۔ لیکن وہاں خریدار کے روپ میں ایف بی آئی کے اہلکار موجود تھے۔

ملاقات کے دوران رابرٹس نے اپنی اصل شناخت ظاہر کردی۔ اس کے بعد تفتیش کاروں نے ہوٹل میں کارروائی کرتے ہوئے چوری کیے گئے نمونے برآمد کرلیے اور رابرٹس سمیت اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا۔

یوں چاند کے پتھروں کی یہ عجیب و غریب چوری صرف سات دن بعد ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

خلاباز بننے کا خواب جیل میں دفن ہوگیا

تھاڈ رابرٹس نے جرم کا اعتراف کیا اور اسے جیل کی سزا سنائی گئی۔ وہ کئی سال جیل میں رہا، جبکہ اس کے ساتھیوں کو بھی مختلف سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔