پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ روز تیمرگرہ اور بٹ خیلہ میں تاریخی جلسہ عام منعقد ہوئے، جبکہ کراچی سمیت دیگر مقامات پر جاری دھرنوں میں بھی عوام کی بڑی تعداد شریک ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے عوام کے لیے ہیں اور اب یہ ایک قومی تحریک بن چکی ہے۔ ان کے مطابق دھرنوں میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شرکت کر رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی آگے بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست فائدہ عام عوام کو ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے مجبور ہو کر گزشتہ روز ریلیف پیکیج کا اعلان کیا، تاہم مہنگائی کے اس دور میں فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف ناکافی ہے۔ ان کے مطابق ریلیف پیکیج سے زیادہ ضروری ہے کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں جبکہ 20 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ اگر لانگ مارچ میں حکومت نے رکاوٹ ڈالی تو اس کی ذمہ دار حکومت خود ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی 25 کروڑ عوام کی امید بن چکی ہے۔ ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور انہیں ریلیف دلوا کر دم لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 20 ستمبر کو تاریخی پاور شو ہوگا اور جماعت اسلامی اسلام آباد جا کر بیٹھ جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ عوام کو ریلیف دے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے مزید ایک دن کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی مذاکرات ہوں گے، جماعت اسلامی کا ایک ہی مطالبہ ہوگا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر لیوی ختم کر دی گئی تو اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے، تاہم جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نے حکومت کو لیوی کا متبادل تجویز کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ آمدنی رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سود کی شرح کم کی جائے، اس سے مہنگائی نہیں بڑھے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سود ختم کرنے سے چند بینکوں کے مالکان کو تکلیف ہوتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت یہ جواز پیش کرتی ہے کہ اسٹیٹ بینک ایک خودمختار ادارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مل کر اسٹیٹ بینک کو خودمختار بنایا جبکہ جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے ارکان اور گورنر کا تقرر حکومت ہی کرتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج مانیٹری پالیسی کی میٹنگ ہے اور سود کی شرح میں 3 فیصد کمی کی جائے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر بینک مالکان مافیا بن جائیں گے تو عوام کو ریلیف کیسے ملے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ بینک، آٹا، چینی اور آئی پی پیز مافیا ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایلیٹ کیپچر جم خانہ اور دیگر کلبز میں بیٹھ کر عوام کی قسمت کے فیصلے کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی تیل اور درآمدی تیل کی قیمتیں برابر کرکے قوم کو دھوکہ دیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی مستقل مزاجی سے قوم کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور اس کے کارکن اور حمایتی تمام تر حالات میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ، چترال اور بلوچستان میں بھی بدترین حالات کے باوجود دھرنے جاری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد جا رہی ہے اور صرف ہاتھ لگا کر واپس نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا آئینی حق ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں اور انہیں رہائی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کا فائدہ کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ پوری قوم کو ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے گورنر منصورہ آئے اور بعد میں پشاور کے دھرنے میں بھی شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں بھی جماعت اسلامی کے دھرنوں کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شاید چند دنوں میں ان کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات ہو جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی بھی جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کر رہی ہے۔







