سرکاری حکام کے مطابق حادثہ اتوار کے روز پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی شاہرگ میں واقع کوئلہ کان میں پیش آیا، جہاں مجموعی طور پر 8 کانکن پھنس گئے تھے۔

چیف انسپیکٹر مائنز محمد عاطف نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 کانکنوں کو زخمی حالت میں کان سے باہر نکال لیا، تاہم دیگر 4 کانکن کان کے اندر پھنسے رہے۔

محمد عاطف کے مطابق ریسکیو ٹیم جب ان 4 کانکنوں تک پہنچی تو وہ پہلے ہی دم توڑ چکے تھے، جس کے بعد ان کی لاشیں بھی کان سے نکال لی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، جب کہ حادثے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔

بلوچستان میں جدید صنعتوں کی کمی کے باعث کان کنی صوبے کی اہم صنعتوں میں شمار ہوتی ہے، تاہم مزدور تنظیمیں طویل عرصے سے کانوں میں حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔ مزدور تنظیموں کے مطابق حفاظتی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث صوبے میں کوئلہ کانوں کے دوران اکثر حادثات پیش آتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال جولائی کے آخر میں کوئٹہ کے علاقے سورینج میں بھی کوئلہ کان کا ایک بڑا حادثہ پیش آیا تھا، جس میں 34 کانکن جاں بحق ہوگئے تھے۔

حالیہ حادثے نے ایک بار پھر بلوچستان میں کان کنوں کی حفاظت، کانوں میں حفاظتی اقدامات اور کام کے دوران مزدوروں کو درپیش خطرات پر توجہ مرکوز کردی ہے۔