وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ لبنانی وزیر داخلہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے۔

یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری امریکہ ایران تنازعے کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں اسرائیل نے لبنان میں ایران کی حامی تنظیم حزب اللہ پر حملے کیے ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق مارچ سے اب تک ان حملوں میں 4,300 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔

پاکستان، جو مشرق وسطیٰ کے بحران میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، نے بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کی اور جون میں ایک عبوری امن معاہدہ کرانے میں کامیاب رہا۔

پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے پر لبنانی وزیر داخلہ کا استقبال کیا۔

پاکستانی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ لبنان کے وزیر داخلہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے۔

بیان کے مطابق دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے اہم بات چیت کی جائے گی۔

دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ پیش رفت اکتوبر میں روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے قبل سامنے آئی ہے، جن میں سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی ثالثی میں طے پانے والے سکیورٹی معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔

اہلکار نے کہا کہ معاہدے پر مسلسل عمل درآمد ’لبنان کی خودمختاری اور اسرائیل کی سکیورٹی بحال کرنے کا واحد قابل عمل طریقہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لبنانی اور اسرائیلی سفیر اگلے ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔

اطالوی دارالحکومت روم میں مذاکرات کا ساتواں دور اہم علاقائی مسائل پر کسی پیش رفت کے بغیر اگست میں ختم ہوگیا تھا۔

وسیع تر علاقائی تنازعے کے دوران 2 مارچ کو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوگئی۔

اسرائیلی فوج لبنان کے اندر اسرائیلی سرحد کی پوری لمبائی کے ساتھ تقریباً 10 کلومیٹر (6 میل) کے علاقے پر قابض ہے، جسے وہ ’بفر زون‘ قرار دیتی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ زون شمالی اسرائیل کی آبادیوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔