محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق صوبے میں دہشت گرد تنظیموں اور مخالف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے عوامی اجتماعات کے دوران ممکنہ دہشت گرد کارروائیوں کا خطرہ موجود ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے خودکش حملہ آوروں، گاڑیوں میں نصب بارودی مواد اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بڑی عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے متعدد تھریٹ الرٹس موصول ہوئے ہیں۔

محکمہ داخلہ کے مطابق جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے، مظاہرے اور دیگر عوامی اجتماعات ممکنہ طور پر دہشت گرد حملوں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں، اس لیے فوری حفاظتی اقدامات ضروری قرار دیے گئے ہیں۔

حکم نامے کے تحت پنجاب بھر میں کسی بھی عوامی مقام، سڑک، شاہراہ یا کھلی جگہ پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین کے جلوس، مساجد اور گرجا گھروں میں عبادات، سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی سرکاری سرگرمیوں اور عدالتوں پر نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے پنجاب سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2017 کی متعلقہ شق کے تحت باقاعدہ اجازت دی گئی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

حکم نامے کے مطابق عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحے کو لے جانے، نمائش کرنے یا لہرانے پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تاہم سرکاری ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے پر بھی پابندی ہوگی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ 13 ستمبر 2026 سے فوری طور پر ہوگا اور پانچ روز تک نافذ رہے گا، تاہم اسے اس سے قبل تبدیل یا واپس بھی لیا جاسکتا ہے۔