عاصم افتخار احمد کے مطابق سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان کا اضافہ موجودہ مسائل کے حل کے بجائے ادارے کی نمائندگی اور فیصلہ سازی سے متعلق پیچیدگیوں میں اضافہ کرسکتا ہے، پاکستان ایسے اصلاحاتی ماڈل کی حمایت کرتا ہے جس میں اقوام متحدہ کے زیادہ سے زیادہ رکن ممالک کو سلامتی کونسل میں نمائندگی کا موقع مل سکے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق پاکستان اور ’یونائٹنگ فار کنسنسس‘ گروپ سمیت دیگر ہم خیال ممالک سلامتی کونسل میں منتخب غیر مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق اس تجویز کا مقصد سلامتی کونسل میں وسیع تر رکنیت اور مختلف علاقائی گروہوں کی نمائندگی کو بہتر بنانا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ درمیانی مدت کی نشستیں بھی متعارف کرائی جاسکتی ہیں، جن پر وقفے وقفے سے انتخابات ہوں اور رکن ممالک کو باری کے اصول کے تحت سلامتی کونسل میں خدمات انجام دینے کا موقع ملے، اس طریقہ کار سے مستقل نشستوں کے بجائے زیادہ وسیع اور متوازن نمائندگی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی موجودہ سلامتی کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا پانچ مستقل ارکان ہیں، جبکہ 10 غیر مستقل ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ پاکستان بھی 2025 اور 2026 کے لیے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے سلامتی کونسل کا حصہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسلام آباد نے 2025-26 کے دوران سلامتی کونسل میں تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل، امن مشنز، انسداد دہشتگردی اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
عاصم افتخار احمد کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا بھی پاکستان کی مدت کی اہم پیش رفت میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کی تھی اور اس عرصے کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ بھی پاکستان کے مستقل مشن نے پیش کی تھی۔
پاکستانی مندوب نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی چار روزہ فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جوہری طاقتیں ایک وسیع تر تنازع کے خطرناک حد تک قریب پہنچ گئی تھیں، اس بحران نے ایک مرتبہ پھر اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ تنازعات کو سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے رابطوں اور مذاکرات میں بھی تعاون کیا گیا۔
غزہ کی صورتحال کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے آواز اٹھائی، پاکستان نے غزہ سے متعلق جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی حمایت میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر سلامتی کونسل کی کارروائیوں کا مقصد جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کے لیے راستہ ہموار کرنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کے ’آریا فارمولا‘ اجلاسوں کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کیا، پاکستان اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں جموں و کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات صرف نشستوں کی تعداد میں تبدیلی تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ کونسل کے طریقۂ کار، شفافیت، جواب دہی اور فیصلہ سازی میں مؤثریت کو بھی بہتر بنایا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں حالیہ بحثوں میں بھی سلامتی کونسل کے کام کرنے کے طریقۂ کار کو زیادہ شفاف، جامع اور مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے دوران چھوٹی اور درمیانے درجے کی ریاستوں سمیت وسیع تر اقوام متحدہ کی رکنیت کے مفادات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ پاکستان پہلے بھی یہ مؤقف پیش کرچکا ہے کہ نئے مستقل ارکان شامل کرنے سے کونسل کی نمائندگی کے مسئلے کے بجائے اس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ایسے ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے جہاں عالمی برادری کو درپیش تنازعات کے حل، امن کے قیام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد اقدامات کیے جاسکیں۔
ان کے مطابق پاکستان سلامتی کونسل کی اصلاح کے عمل میں ایسے فارمولے کی حمایت جاری رکھے گا جو زیادہ سے زیادہ رکن ممالک کو نمائندگی کا موقع دے، علاقائی توازن کو بہتر بنائے اور کونسل کو عالمی برادری کے لیے زیادہ جواب دہ اور مؤثر بنائے۔
پاکستانی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے معاملے پر مستقل نشستوں میں اضافے، علاقائی نمائندگی اور کونسل کے کام کرنے کے طریقۂ کار سمیت مختلف تجاویز پر طویل عرصے سے بین الحکومتی مذاکرات جاری ہیں







