نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے تربیتی کیمپوں میں اسرائیلی افراد بھی آکر انہیں ٹیکنالوجی کی تربیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے ڈرونز کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے ماضی میں اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی اور پالیسی کے حوالے سے بنیادی فیصلہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کو اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرنا ہوگا، بیرونی جارحیت یا قومی سلامتی سے متعلق اسٹریٹجک فیصلے کھلے فورم پر طے نہیں کیے جاتے۔
رانا ثنااللہ نے افغانستان سے دہشتگردی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث افراد افغانستان سے تربیت حاصل کرکے پاکستان آتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو وہیں سے کنٹرول کیا جاتا ہے، طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ کئی برس سے جاری رہا ہے اور قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور چین سمیت مختلف ممالک بھی افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کرچکے ہیں، تاہم ان کے بقول مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر صرف مذاکرات کو حل سمجھنے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت کی ترجیح دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو اس مرحلے تک پہنچانا ہے جہاں ملک میں پائیدار امن اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔
وزیراعظم کے مشیر نے سابق حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے متعلق پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دہشتگردوں کو عام معافی دے کر واپس لانے کی پالیسی اختیار کی گئی تھی، اس معاملے پر اپوزیشن سے باقاعدہ مشاورت نہیں ہوئی بلکہ اسے بریفنگ تک محدود رکھا گیا تھا۔
رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ سابق فاٹا کے عوام نے بھی اس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ واپس آنے والے افراد دوبارہ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں، اس وقت حکومت کا مؤقف تھا کہ ہتھیار چھوڑنے والے افراد قانون کے مطابق معمول کی زندگی گزاریں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی پر عملدرآمد چاہتی ہے اور صوبائی حکومتوں سے بھی اسی سلسلے میں تعاون کی توقع کی جارہی ہے، قومی سلامتی سے متعلق پالیسی کو اتفاق رائے سے مشروط کرنے کا مطالبہ آئینی اور قانونی اعتبار سے درست نہیں۔
رانا ثنااللہ نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ سیاسی معاملات، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق بیشتر امور پر اتفاق ہوچکا تھا، عمران خان سے ملاقات اور ذاتی معالجین کی رسائی کے معاملے پر بھی ایک طریقہ کار پر اتفاق ہوا تھا اور ذاتی معالجین کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں پی ٹی آئی کے نمائندے فائنل ڈرافٹ پر مشاورت کے لیے کمرے میں گئے، تاہم باہر آنے کے بعد ان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی صرف حکومتی فیصلہ نہیں بلکہ اتفاق رائے سے طے ہونی چاہیے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات دوبارہ ہوسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے دہشتگردی کے خلاف پالیسی پر مثبت پیش رفت اور تعاون کی یقین دہانی ضروری ہوگی، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے مذاکرات سے پہلے بھی موجود تھے اور آئندہ بھی رابطوں کا امکان برقرار ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بھی بنیادی اختلاف دہشتگردی کے خلاف پالیسی اور خیبرپختونخوا حکومت کے وفاق کے ساتھ تعاون کے معاملے پر سامنے آیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق مذاکرات کسی حتمی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوئے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لکی مروت سے شروع ہونے والے مارچ میں ان کے مطابق تین سے چار ہزار افراد شریک تھے۔ انہوں نے شرکا کی تعداد کو کم قرار دیتے ہوئے اس کی بنیاد پر مارچ کے آئندہ مرحلے سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔
رانا ثنااللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات جاری تھے تو پھر لانگ مارچ شروع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، سیاسی مذاکرات اور سڑکوں پر احتجاج بیک وقت جاری رکھنے سے بات چیت کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بھی انسداد دہشتگردی اور خیبرپختونخوا حکومت کے کردار سے متعلق اختلافات نمایاں رہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے، تاہم قومی سلامتی اور دہشتگردی کے خلاف پالیسی کے معاملے پر وفاقی حکومت اپنے آئینی اختیار اور ذمہ داری کے مطابق فیصلے کرے گی۔ ان کے مطابق پائیدار امن کے لیے سیاسی رابطے کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں۔







