موزمبیق اور برصغیر کے درمیان صدیوں سے سمندری تجارت کا تعلق قائم رہا ہے۔ بحرِ ہند کی ہواؤں کے سہارے گجراتی تاجر مشرقی افریقہ پہنچے، جہاں انہوں نے کاروبار شروع کیا اور بعد ازاں اپنے خاندانوں کو بھی موزمبیق منتقل کرلیا۔ وقت کے ساتھ وہاں ایک ایسی برادری وجود میں آگئی جس کی جڑیں برصغیر میں تھیں، لیکن زندگی افریقہ میں گزر رہی تھی۔
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد ان خاندانوں کے سامنے شہریت کا سوال پیدا ہوا۔ انہیں فیصلہ کرنا تھا کہ وہ انڈین شہری بنیں یا پاکستان کی شہریت اختیار کریں۔ زیادہ تر افراد نے انڈین شہریت حاصل کی، تاہم موزمبیق میں موجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی شہریت چاہتی تھی۔
مسئلہ یہ تھا کہ ان کا موجودہ پاکستان سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ نہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور نہ ہی ان کے خاندان یہاں سے ہجرت کرکے موزمبیق گئے تھے۔
1961 میں حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ انڈیا نے پرتگالی قبضے سے گوا کو آزاد کرا کے اپنے ساتھ ضم کرلیا۔ اس وقت موزمبیق پرتگال کی نوآبادی تھا، جس کے باعث وہاں موجود انڈین شہریوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئیں۔ کئی افراد کو حراست میں لیا گیا، ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے اور انہیں ملک چھوڑنے یا پرتگالی شہریت اختیار کرنے کا کہا گیا۔
پرتگالی شہریت اختیار کرنے کا ایک مسئلہ بچوں کے لیے لازمی فوجی خدمت بھی تھا۔ ایسے حالات میں موزمبیق میں مقیم مسلمانوں کے ایک وفد نے پاکستان کا رخ کیا اور اس وقت کے صدر ایوب خان سے ملاقات کی۔
وفد کا مؤقف تھا کہ اگر تقسیم کے وقت وہ برصغیر میں موجود ہوتے تو پاکستان منتقل ہوجاتے۔ ایوب خان نے ان کی درخواست منظور کی اور انہیں پاکستانی شہریت دینے کا راستہ کھول دیا۔ یوں موزمبیق میں رہنے والے یہ مسلمان پاکستانی شہری بن گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی شہریت ملنے کے باوجود ان کی روزمرہ زندگی میں موزمبیق ہی نمایاں رہا۔ ان کے گھروں میں گجراتی زبان بولی جاتی تھی، جب کہ کاروبار اور معاشرتی معاملات میں پرتگالی زبان استعمال ہوتی تھی۔ وہ پاکستان سے آنے والے ڈرامے دیکھتے، پاکستان میں موجود دوستوں سے رابطے میں رہتے اور خود کو پاکستانی سمجھتے تھے۔
یعنی ان کے پاسپورٹ پر پاکستان کا نام تھا، گھروں میں گجراتی زبان بولی جاتی تھی، جب کہ ان کا وطن اور روزمرہ زندگی موزمبیق سے جڑی ہوئی تھی۔
1975 میں موزمبیق آزاد ہوا، تاہم اس کے بعد بھی ملک کو شدید سیاسی اور معاشی مشکلات کا سامنا رہا۔ 1980 کی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران وہاں موجود پاکستانی برادری نے مقامی لوگوں کی مدد بھی کی۔ پاکستانی خواتین نے فنڈز جمع کیے اور سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔
یوں پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور رہنے والی یہ برادری نہ صرف اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے تھی بلکہ مقامی معاشرے میں بھی اپنا کردار ادا کررہی تھی۔
آج موزمبیق میں لگ بھگ 20 سے 30 ہزار پاکستانی اور پاکستانی نژاد افراد موجود ہیں۔ ان میں ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن کی کئی نسلیں موزمبیق میں پیدا ہوئی ہیں اور جنہوں نے پاکستان کو اپنی آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود پاکستان ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستانی ہونے کے لیے کیا پاکستان میں پیدا ہونا یا پاکستان دیکھنا ضروری ہے؟ موزمبیق میں آباد یہ پاکستانی برادری اس سوال کی ایک منفرد مثال پیش کرتی ہے، جہاں ایک ملک سے تعلق صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ تاریخ، شہریت اور کئی نسلوں سے چلی آنے والی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔
یہ کہانی ان پاکستانیوں کی ہے جو پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور رہتے ہیں، جن کی زبان مختلف ہے، جن کا ماحول مختلف ہے، لیکن جن کے پاسپورٹ اور شناخت میں آج بھی پاکستان کا نام موجود ہے۔







