نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو مارچ میں شریک کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان کے بقول عملی صورتحال ان دعوؤں سے مختلف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے پاس اٹک سے آگے جانے کی صلاحیت اور قوت موجود نہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبہ اس وقت دہشتگردی کے سنگین چیلنج سے دوچار ہے اور ایسے حالات میں صوبائی حکومت کو امن و امان اور دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر توجہ دینی چاہیے، سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے میں موجود سیکیورٹی مسائل کے حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات انسداد دہشتگردی کی پالیسی پر اختلافات کے باعث نتیجہ خیز نہ ہوسکے۔ مذاکرات میں فریقین کے درمیان دہشتگردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی سطح پر تعاون سمیت دیگر امور پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

پی ٹی آئی نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے مارچ کا آغاز کیا، جبکہ پارٹی کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق قافلے نے مختلف اضلاع سے ہوتے ہوئے آگے بڑھنا تھا۔

مارچ کے دوسرے روز پی ٹی آئی کا قافلہ کوہاٹ پہنچا، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد طویل ہے اور اس کے لیے مسلسل متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق قافلے کا اگلا پڑاؤ پشاور اور اس کے بعد خیبرپختونخوا کے پنجاب سے متصل علاقوں کی جانب ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے لانگ مارچ کے دوران سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاجی قافلے کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی روک تھام اور شرکا کی اسکریننگ کے لیے پی ٹی آئی کے پاس کیا مؤثر نظام موجود ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے واقعات پر مؤثر تعاون نہیں کر رہی اور وفاق کی جانب سے عسکریت پسندی کے خلاف تعاون طلب کیے جانے پر صوبائی حکومت کا مؤقف مختلف رہا ہے۔ گورنر نے اس حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔

فیصل کریم کنڈی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے بھی مختلف الزامات عائد کیے اور کہا کہ ماضی میں عسکریت پسندوں کو خیبرپختونخوا میں بسانے کی پالیسی کے باعث انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دعوؤں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی یا تحریک انصاف کا مؤقف اس بیان میں شامل نہیں تھا۔

گورنر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید کے زیرِ اثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے فرار اختیار کرنے والے کسی بھی شخص کو قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان صوبے کی سیکیورٹی صورتحال، سیاسی معاملات، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اور لانگ مارچ سے متعلق امور پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔ حالیہ ملاقات میں بھی سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیکیورٹی اداروں اور حکومتوں کے درمیان رابطہ ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے، خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشتگردی کے باعث بھاری نقصان اٹھا چکا ہے، اس لیے صوبے میں امن و امان کو مزید سیاسی کشیدگی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج کسی بھی مسئلے کا پہلا حل نہیں بلکہ آخری آپشن ہوتا ہے، پہلے سیاسی اور انتظامی سطح پر مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم اگر حالات اس حد تک خراب ہوجائیں کہ معمول کے انتظامی طریقوں سے معاملات سنبھالنا ممکن نہ رہے تو آئینی راستے موجود ہیں۔

اس حوالے سے گورنر ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر صدر اور وزیراعظم صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کو ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی خدشات اور اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت سے متعلق سخت مؤقف کے باوجود جاری ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف تعاون اور امن و امان کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کی سیاسی اور احتجاجی سرگرمیوں کو روکا نہیں جانا چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی اور سیکیورٹی معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے ان اختلافات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مارچ کے آئندہ مرحلے، حکومت کے سیکیورٹی اقدامات اور فریقین کے درمیان سیاسی رابطوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔