جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے کہا کہ اگر ایسی کوئی ملاقات ہوئی ہوتی تو اسے خفیہ رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک کھلی کتاب ہے اور اس کی تمام سرگرمیاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کی جاتی ہیں۔
شکیل احمد ترابی کے مطابق جماعت اسلامی گزشتہ دو ماہ سے پٹرولیم لیوی کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مہم کے پہلے مرحلے میں 510 مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں جبکہ دوسرے مرحلے میں پانچ ہفتوں تک 40 سے زائد مقامات پر دھرنے دیے گئے۔
ان کے مطابق تیسرے مرحلے میں کراچی سے اسلام آباد تک سپر لانگ مارچ شروع کیا گیا تھا۔
شکیل احمد ترابی نے کہا کہ وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو امید ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے جلد ایک بڑا ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے۔
حکومت کی جانب سے مزید وقت مانگنے کی اطلاعات
اس سے قبل ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جس میں حکومت نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے مطالبے پر مزید وقت مانگا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے جماعت اسلامی سے کہا کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق صورتحال حل ہونے تک اسے وقت دیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے حافظ نعیم الرحمٰن کو یقین دہانی کرائی کہ جماعت اسلامی کے مطالبات پر پیش رفت کی جائے گی اور ان سے درخواست کی گئی کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے معاملے سے نمٹنے کے دوران حکومت کو کچھ وقت دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اور ملاقات بھی متوقع ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔
جماعت اسلامی 7 اکتوبر کو غزہ مارچ کے دوران اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کر سکتی ہے۔







