ہفتے کو سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی ویڈیو میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے قوانین لاگو ہوتے ہوں۔

وکیل صفائی کے مطابق اقرار الحسن نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ پہلے ہی حکم دے چکی ہے اور ان کے موکل نے کوئی خود ساختہ بات نہیں کی۔

میاں علی اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کی گرفتاری کو 6 روز گزر چکے ہیں، تاہم ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت درج نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق گرفتاری کے گواہ این سی سی آئی اے کے 3 اہلکار ہیں اور کوئی آزاد گواہ موجود نہیں تھا۔ وکیل نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ گرفتاری کے وقت تفتیشی افسر موقع پر موجود نہیں تھے۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ملزم کا موبائل فون، آئی پیڈ اور دیگر اشیا پہلے ہی این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں اور تفتیش کے لیے ضروری سوالات بھی کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے میں کوئی متاثرہ شخص یا مدعی موجود نہیں۔ ان کے موکل نے ویڈیو میں موجود مواد کی اشاعت سے انکار نہیں کیا بلکہ تسلیم کیا ہے کہ یہ مواد ان کا اپنا ہے اور انہوں نے ہی اسے شائع کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل پر ریمارکس دیے کہ ایک طرف ملزم کو مقدمے سے بری یا ڈسچارج کرنے کی استدعا کی جا رہی ہے اور دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ شواہد ٹرائل کے دوران پیش کیے جائیں گے۔

دوسری جانب تفتیشی افسر نے اقرار الحسن کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کا موبائل فون فورینزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مقدمے میں مزید 5 افراد کو گرفتار کرنا ہے اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق شکایت پر کارروائی کی گئی۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایجنسی اپنے طور پر بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ سماعت کے دوران گرفتاری کے وقت سے متعلق بھی مختلف مؤقف سامنے آئے۔ وکیل صفائی نے گرفتاری کے وقت اور طریقۂ کار پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ ایجنسی نے ملزم کو ساڑھے 12 بجے گرفتار کیے جانے کا مؤقف اختیار کیا۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع کردی اور انہیں مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔