افسران سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سرکاری عہدہ اپنے ساتھ بڑی ذمہ داری لے کر آتا ہے، کیونکہ افسران کے فیصلے براہِ راست عام شہریوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انتظامی امور میں بروقت فیصلے، بہتر منصوبہ بندی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں ہی حکومتی کارکردگی کو مؤثر بنا سکتی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان نے افسران کو شناخت، عزت اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لہٰذا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور تجربے کو قومی مفاد کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے پر فخر ہے اور ملک کی جانب سے فراہم کیے گئے مواقع کی قدر کی جانی چاہیے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت چلانا بظاہر آسان دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مشکل اور مسلسل توجہ کا تقاضا کرنے والا کام ہے۔ حکومتی مشینری کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ سرکاری افسران اپنی ذمہ داریاں کس حد تک دیانت داری، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی توجہ محض دفتری کارروائیوں کے بجائے کارکردگی اور عملی نتائج پر مرکوز ہے۔ ایسے اقدامات اور فیصلے اہمیت رکھتے ہیں جن سے شہریوں کو حقیقی فائدہ پہنچے، ان کے مسائل حل ہوں اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے۔

وزیراعلیٰ نے نوجوان افسران کو ہدایت کی کہ وہ روایتی طریقہ کار کے پیچھے چھپنے اور آسان راستہ اختیار کرکے ذمہ داریوں سے بچنے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق صرف حاضری لگانا، فائلوں پر دستخط کرنا یا دوسروں کی غفلت کو اپنے کام میں تاخیر کا جواز بنانا مؤثر طرزِ حکمرانی نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب ان کی کوششوں کے نتیجے میں عوام کو سہولت ملے اور حکومتی اقدامات کے اثرات عام شہری تک پہنچیں۔ افسران کو چاہیے کہ وہ اپنے اختیارات اور وسائل کو عوامی مفاد کے لیے استعمال کریں اور اپنے کام کے نتائج پر توجہ دیں۔

انہوں نے نوجوان افسران کو ملک کی مستقبل کی قیادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے رویے، فیصلے اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل آنے والے وقت میں انتظامی نظام کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس لیے انہیں اپنے منصب کو اعزاز کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کی ذمہ داری بھی سمجھنا چاہیے۔