پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سید عامر رضا نے کامیاب ہونے والے کیڈٹس اور ان کے والدین کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی تربیت مکمل کرنے والے نوجوان افسران کے کندھوں پر ملک کی سلامتی، وقار اور دفاع کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جسے انہیں پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور قومی جذبے کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ نے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی افسر کی زندگی مسلسل آزمائشوں اور چیلنجز سے عبارت ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں قیادت کا معیار اس کی دیانت داری، بہادری، جرات اور مشکل وقت میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت سے متعین ہوتا ہے۔ انہوں نے نوجوان افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں آنے والے چیلنجز کا حوصلے اور ذمہ داری کے ساتھ سامنا کریں اور ملکی دفاع کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
جنرل سید عامر رضا نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ سرحدی خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، افواج پاکستان کے جوان ملکی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور قومی دفاع کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں خواتین کیڈٹس کی شرکت کو باعثِ افتخار قرار دیتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ خواتین کیڈٹس کی پیشہ ورانہ تربیت اور فوجی خدمات میں شرکت قومی اداروں میں ان کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
خطاب کے دوران جنرل سید عامر رضا نے خطے کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کیا اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں حصہ لیا، پاکستان کی جانب سے ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے ادا کیے گئے کردار کو عالمی سطح پر دیکھا گیا۔
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ نے فلسطین کی صورت حال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بھی عالمی سطح پر حل طلب معاملہ قرار دیا اور کہا کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
جنرل سید عامر رضا نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ قومی سلامتی، ملکی خودمختاری اور عوام کا تحفظ مسلح افواج کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے نئے فوجی افسران کو پیغام دیا کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں پیشہ ورانہ معیار، دیانت داری اور بہادری کو مقدم رکھیں اور ملک کے دفاع کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لائیں۔







