زلزلہ پیما مرکز کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، خاران، مستونگ، خضدار، قلات اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ جھٹکوں کے باعث شہریوں میں تشویش پھیل گئی اور مختلف علاقوں میں لوگوں نے زلزلہ محسوس ہونے کی اطلاع دی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ابتدائی معلومات میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ تاہم، زلزلے کے بعد صورت حال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید معلومات موصول ہونے پر نقصانات سے متعلق صورت حال واضح ہو سکے گی۔
بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زلزلے کے خطرات سے دوچار خطہ ہے۔ یہ علاقہ مختلف ارضیاتی پلیٹوں کی سرحدوں اور فعال فالٹ لائنز کے قریب واقع ہونے کے باعث زلزلوں کی زد میں آتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زمین کی اندرونی پلیٹوں کی حرکت اور فالٹ لائنز پر دباؤ جمع ہونے سے زلزلے پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماضی میں بھی کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں بعض کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا۔ ان واقعات کے باعث صوبے میں عمارتوں کی تعمیر کے معیار، شہری منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
زلزلے کے بعد متعلقہ ادارے صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر کسی نقصان کی اطلاع نہ ملنا اطمینان بخش ہے، تاہم حتمی صورت حال کا اندازہ مزید معلومات اور جائزے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
زلزلے کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ زلزلے کے دوران عمارت کے اندر موجود افراد مضبوط میز کے نیچے پناہ لیں، کھڑکیوں اور بھاری اشیا سے دور رہیں اور جھٹکے رکنے کے بعد احتیاط سے کھلی جگہ کی طرف جائیں۔ عمارت سے باہر نکلتے وقت لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال کیا جائے۔
حکام کے مطابق زلزلے سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کے بعد صورت حال واضح ہو سکے گی۔







