ٹکر کارلسن نے امریکی میڈیا سے گفتگو اور اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار بھاری بموں کی فراہمی کی منظوری دی گئی ہے، یہ بم مارک 84 اور بی ایل یو-117 اقسام پر مشتمل ہیں اور ہر بم کا وزن 2 ہزار پاؤنڈ ہے۔
تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ براہ راست مفت تحفے کے بجائے تقریباً 2.8 ارب ڈالر کے ایک مجوزہ اسلحہ پیکیج سے متعلق ہے۔ رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پیکیج میں 20 ہزار ایم کے-84 اور 20 ہزار بی ایل یو-117 بم شامل ہیں، جبکہ اس کی مالی معاونت امریکی فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام کے ذریعے ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
ٹکر کارلسن نے اس منتقلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم اسرائیل کو فراہم کرنے کا فیصلہ انتہائی اہم نوعیت کا ہے، اس منتقلی کے لیے امریکی کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کے ارکان کی منظوری بھی درکار ہے اور ان میں سے بعض ارکان کو اسرائیل نواز لابی سے سیاسی عطیات ملتے رہے ہیں۔
کارلسن نے اپنے بیان میں چار امریکی قانون سازوں کا نام بھی لیا جن میں سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین جم رش، رینکنگ ممبر جین شاہین، جبکہ ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ اور رینکنگ ممبر گریگوری میکس شامل ہیں۔ انہوں نے ان قانون سازوں پر اسرائیل نواز حلقوں سے مالی حمایت حاصل کرنے کا الزام عائد کیا۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے مجوزہ 2.8 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکیج کی مخالفت کا اعلان کیا ہے، اسرائیل کی سیکیورٹی کے عزم کے باوجود 2 ہزار پاؤنڈ کے بموں کے استعمال اور بین الاقوامی قوانین سے متعلق سوالات موجود ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ پیکیج میں شامل ایم کے-84 بم وسیع تباہ کن صلاحیت رکھنے والے بھاری بموں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ بی ایل یو-117 بھی اسی وزن کے بم کی ایک قسم ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس پیکیج میں 20 ہزار آئی-2000 پینیٹریٹر وارہیڈز بھی الگ سے شامل ہیں۔
ٹکر کارلسن نے ان بموں کی تباہ کن صلاحیت کا موازنہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہونے والی بڑے پیمانے کی بمباری اور ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹمی بم سے بھی کیا۔ تاہم ان کی جانب سے تباہ کاری کی شدت سے متعلق بعض اعداد و شمار اور موازنوں کو ان کے اپنے دعوے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ دستیاب امریکی میڈیا رپورٹس میں ان موازنوں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آتی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے ان بھاری بموں کے استعمال کا معاملہ غزہ اور لبنان میں شہری آبادی کے قریب فوجی کارروائیوں کے تناظر میں بھی زیر بحث رہا ہے۔ اسی وجہ سے مجوزہ منتقلی پر امریکی قانون سازوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
ٹکر کارلسن، جو ماضی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے رہے ہیں، حالیہ عرصے میں ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی خصوصاً ایران اور اسرائیل سے متعلق پالیسی پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایران کے معاملے پر بھی ٹرمپ کے مؤقف پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اسلحہ پیکیج کے معاملے میں امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام غیر ملکی اسلحہ فروخت کے معاملات متعلقہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ مجوزہ 40 ہزار بموں کی منتقلی نے ایک بار پھر اسرائیل کو امریکی فوجی امداد، بھاری ہتھیاروں کے استعمال اور شہری آبادی کے تحفظ سے متعلق بحث کو نمایاں کردیا ہے۔







