میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کیے جانے پر بھی بات کی اور کہا کہ پارٹی کی جانب سے احتجاج کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں تھی۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کی سیاسی پوزیشن اور احتجاجی سرگرمی متاثر ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ پہلے 27 ستمبر کو کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے بعد اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھے گا تو وہ اپوزیشن کے مطالبات پر غور کرنے پر مجبور ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے پارٹی کو اپنی حکمت عملی واضح رکھنا ہوگی۔
سابق وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں حکومتی رٹ سے متعلق بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں وزیراعلیٰ کی رٹ مؤثر نہ ہونے کے باعث وزرا، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کو گرفتار یا حراست میں لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں سے صوبے کی سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو رہی ہے۔
وزارتِ اعلیٰ کے حوالے سے سوال پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر عمران خان کی جانب سے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کا حکم دیا گیا تو وہ اس ذمہ داری کو قبول کرسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں بھی انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دیا تھا۔
علی امین گنڈاپور نے حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر کہا کہ بات چیت کے حوالے سے فیصلہ پارٹی کی قیادت اور فیصلہ سازوں نے کرنا ہے۔ سیاسی معاملات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ قیادت ہی کرے گی۔
انہوں نے احتجاج کے دوران اسلام آباد پہنچنے کے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رکاوٹوں اور مزاحمت کے باوجود وہ تین مرتبہ وفاقی دارالحکومت پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے مطابق سیاسی احتجاج کے دوران مختلف مشکلات کا سامنا رہا، تاہم کارکنوں اور قیادت نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
سابق وزیراعلیٰ نے موجودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات اور رابطے کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ دونوں کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ دونوں ایک ہی سیاسی جماعت کا حصہ ہیں اور پشتون روایات کے مطابق گھر آئے مہمان کی عزت اور قدر کی جاتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردی ہے اور پارٹی کی جانب سے وفاقی حکومت سے سیاسی مطالبات پر بات چیت کی آمادگی کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر مسائل بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں تو مذاکرات پہلے ہی ہونے چاہئیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کو براہِ راست مذاکرات کی دعوت دیے جانے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے۔
علی امین گنڈاپور کے تازہ بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سابق اور موجودہ صوبائی قیادت کے درمیان رابطہ برقرار ہے، جبکہ وزارتِ اعلیٰ سمیت صوبائی سیاسی معاملات میں عمران خان کی ہدایات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم آئندہ وزارتِ اعلیٰ یا صوبائی قیادت سے متعلق کسی تبدیلی کا حتمی فیصلہ پارٹی قیادت اور متعلقہ آئینی و سیاسی عمل کے تحت ہی ہوگا۔







