ایرانی سپریم لیڈر نے یہ بیان ’مقدس دفاعی ہفتے‘ کے موقع پر جاری کیا، جو ایران عراق جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ بیان میں حزب اللہ کے سابق سربراہ سید حسن نصراللہ کی ہلاکت کی دوسری برسی کا بھی حوالہ دیا گیا۔ حسن نصراللہ ستمبر 2024 میں بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کے دشمن ملک کو اس دور میں واپس لے جانا چاہتے تھے جسے وہ پسماندگی، ذلت اور انحصار کا زمانہ قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایران اب اس دور میں واپس نہیں جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران جنگوں، دباؤ اور بیرونی مشکلات کے باوجود ایران کا نظام مزید مضبوط ہوا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق ملک نے مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور مزاحمت کو برقرار رکھا ہے۔

بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز سے متعلق بات کرتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ماضی میں ایران کے جنوبی سمندری علاقے دشمن قوتوں کے لیے سرگرمی کا مرکز تھے، تاہم ان کے بقول آبنائے ہرمز کے محافظوں اور ایرانی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے بعد مخالف قوتیں بحیرہ عرب سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرتیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے دعویٰ کیا کہ مخالف قوتوں نے جب بھی خطے میں خطرہ مول لیا، انہیں اس کا نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب بحیرہ عرب بھی ان کے بقول ’دشمن‘ کی موجودگی سے پاک ہوجائے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک اور دعوے میں کہا کہ بعض حلقے ایران کو دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایران مستقبل میں اس سے بھی زیادہ طاقتور مقام حاصل کرسکتا ہے۔ یہ دعویٰ ایرانی سپریم لیڈر کے اپنے بیان کا حصہ ہے اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

انہوں نے ایران کے اندر قومی اتحاد پر بھی زور دیا اور ملک کی دفاعی تیاریوں اور عوامی حمایت کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر نے دشمن قوتوں اور ان کے علاقائی اتحادیوں کو بھی خبردار کیا کہ ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی کے نتائج ان کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

بیان میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے انہیں ایک اہم عرب شخصیت اور مزاحمتی محاذ کی بڑی علامت قرار دیا اور کہا کہ ان کی سیاسی و عسکری میراث کو حزب اللہ کے موجودہ سربراہ نعیم قاسم آگے بڑھا رہے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج کے اطراف امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت سے متعلق خدشات موجود ہیں۔ حالیہ امریکی ایرانی تنازع نے توانائی کی ترسیل اور اہم بحری راستوں کی صورتحال کو بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان سے ایران کی جانب سے اپنی دفاعی پالیسی، آبنائے ہرمز اور خطے میں غیر ملکی فوجی موجودگی کے حوالے سے سخت مؤقف ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جبکہ ان کے بیانات کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سیکیورٹی سے متعلق صورتحال پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔