حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی معاشی صورتحال، تعلیم، زراعت، مہنگائی، سیاسی معاملات اور امن و امان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں متوسط طبقہ غربت کی طرف بڑھ رہا ہے، عوام کی بڑی تعداد کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے، جبکہ حکمران طبقے کے معاشی دعووں کے باوجود عام آدمی کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل رہا۔

امیر جماعت اسلامی نے تعلیمی نظام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں معیاری تعلیم کا حصول چند فیصد لوگوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے، تعلیمی نظام کی موجودہ صورتحال حکومتوں کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے، یونیورسٹیوں کو مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے جارہے، جبکہ کالجز کی نجکاری کے اقدامات سے تعلیم تک عام شہریوں کی رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب کی سیاست اور تعلیمی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران صوبے میں زیادہ تر مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں رہی ہیں، اس لیے صوبے کے تعلیمی اور انتظامی مسائل پر حکمران جماعت سے سوالات کیے جانے چاہییں، تعلیم جیسے بنیادی شعبے میں بہتری کے لیے مؤثر حکمت عملی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔

انہوں نے ملکی معیشت کے انتظام اور مالیاتی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ حافظ نعیم الرحما ن کے مطابق پاکستان کی معیشت کو ریاستی دائرہ اختیار سے باہر کردیا گیا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری اور معاشی فیصلوں کے عوام پر اثرات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو براہ راست ریلیف دینے کے بجائے مختلف پیکیجز کا اعلان کرتی ہے، تاہم ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے عام شہریوں کے اخراجات میں حقیقی کمی آئے۔

لیوی کے خاتمے کا مطالبہ، وزیراعظم سے ملاقات کے لیے واضح ایجنڈے پر زور

امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوام پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے واضح اقدامات کرنا ہوں گے، اگر وزیراعظم ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو پہلے عوام کو ریلیف دینے سے متعلق ایجنڈا سامنے لائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ لیوی کے خاتمے اور عوام کو ٹھوس ریلیف دینے کے معاملے پر واضح پیش رفت کے بغیر انہیں ملاقات کا کوئی شوق نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 12 اکتوبر کے بعد اس بارے میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا جائے کہ لیوی ختم کی جائے گی یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا مقصد محض سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا نہیں بلکہ عوام کو مہنگائی اور معاشی مشکلات سے نجات دلانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوامی مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے اور معاملہ سڑکوں پر اٹھایا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی سیاست شخصیات اور سیاسی خاندانوں کے گرد گھومنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو واضح کرنا چاہیے کہ حکومت عام شہریوں کو ریلیف دینے، مہنگائی کم کرنے اور بنیادی ضروریات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے گندم کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گندم کا بحران سنگین ہوتا جارہا ہے اور حکومت اس معاملے پر کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ ان کے مطابق ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کسانوں اور عام صارفین دونوں کا استحصال کررہے ہیں۔

انہوں نے پنجاب حکومت کی زرعی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومتی اقدامات کے باعث زرعی شعبے کو نقصان پہنچ رہا ہے، کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، جبکہ عوام کو سستی روٹی کی فراہمی بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا میں یوریا کھاد کی مبینہ بلیک مارکیٹنگ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو زرعی مداخل کی مناسب قیمت پر دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ کھاد کی مہنگی فروخت اور فصلوں کی کم قیمت کسانوں کے معاشی مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق زرعی شعبے میں مؤثر حکمت عملی نہ ہونے کے اثرات بالآخر عام صارفین تک پہنچتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب خاندانوں کو ملنے والی امداد ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ان کے مطابق محض امدادی پروگراموں اور پیکیجز کے اعلانات سے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکومت کو مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ایسا ریلیف ملنا چاہیے جس کا اثر ان کے روزمرہ اخراجات پر نظر آئے۔ ان کے مطابق معاشی پالیسیوں کا اصل مقصد عام شہریوں کی زندگی آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف معاشی اعداد و شمار میں بہتری دکھانا۔

امیر جماعت اسلامی نے کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کے دعوے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کراچی میں اپنے مینڈیٹ کے دعوے پر قائم ہیں تو فارم 45 سامنے لائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی پیپلز پارٹی سے آگے تھی، کراچی میں انتخابی مینڈیٹ سے متعلق سوالات کا جواب انتخابی دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ یہ مؤقف جماعت اسلامی کی جانب سے انتخابی نتائج اور شہری نمائندگی کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات کا حصہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رہا کیا جانا چاہیے، جن الزامات کی بنیاد پر عمران خان کو جیل میں رکھا گیا ہے، ان معاملات میں دیگر متعلقہ افراد کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

انہوں نے خواتین قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ خواتین قیدیوں کو کم از کم فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق قانونی معاملات میں انصاف اور یکساں احتساب کے اصولوں کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں سیاسی اختلافات اور تنازعات کو عوامی مسائل سے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے، سیاسی جماعتوں کو شخصیات کے بجائے عوامی ضروریات، معاشی مشکلات اور بنیادی حقوق کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے کہا کہ ان اقدامات میں عوام کی حمایت اور تائید ضروری ہے، عوامی اعتماد کے بغیر کی جانے والی کارروائیاں مطلوبہ نتائج کے حصول میں مشکلات پیدا کرسکتی ہیں اور نقصان دہ ثابت ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے جس میں عوام کا اعتماد حاصل ہو اور متعلقہ اقدامات کے مقاصد واضح ہوں۔

حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل، مہنگائی میں کمی اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق واضح فیصلے کیے جائیں، اگر حکومت نے مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی احتجاج جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر لانگ مارچ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرے گی۔