میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی سے حالات مزید خراب ہوں گے اور پی ٹی آئی ایسے کسی اقدام کی مذمت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پرامن ہوگا، جب کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی سے استعفوں کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مضبوط وفاق کے لیے خودمختار صوبے ضروری ہیں اور خیبرپختونخوا میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو پی ٹی آئی ہر آپشن استعمال کرے گی اور صوبے میں سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے دو روز قبل 29 ستمبر کو بیرسٹر گوہر نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی صورت میں بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔
داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو پی ٹی آئی بھرپور مزاحمت کرے گی۔ دہشت گردی کو گورنر راج کے نفاذ کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا اور صوبائی خودمختاری پر کوئی ضرب نہیں آنی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں پی ٹی آئی کے وزراء کو اٹھایا جا رہا ہے، جو صوبائی حکومت کی رٹ اور صوبائی خودمختاری پر بڑی قدغن ہے۔
انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر آج خیبرپختونخوا کی صوبائی خودمختاری متاثر ہوئی تو مستقبل میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ صوبائی خودمختاری پر حملے سے وفاق کمزور ہوگا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے تمام فریقین سے غیر آئینی اقدامات سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتیں اشاروں پر نہیں بلکہ عوام کی مرضی سے ختم ہونی چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزراء پر فائرنگ کی گئی اور صوبائی حکومت کے خلاف سازش نہیں ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا پختونخوا کی صورتحال پر صدر سے مشاورت کا فیصلہ، ایوان صدر میں اہم جلاس طلب
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات پر بحث پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان کے بعد شدت اختیار کر گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے بعض ارکان نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کی بنیاد پر آئینی آپشنز زیرِ غور ہونے کی بات کی ہے۔ تاہم سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے فی الحال فوری طور پر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور پی ٹی آئی کو 4 اکتوبر کے احتجاج پر نظرثانی کا ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔







