بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی کے استعفے سے متعلق بیان میں اسماعیل راہو نے کہا کہ وائس چانسلر کی جانب سے جمع کرایا گیا استعفیٰ موصول ہونے کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کی جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر شفاف طریقے سے مکمل کیا جارہا ہے، جامعات کے انتظامی اور تعلیمی معاملات میں کسی سیاسی شخصیت کی مداخلت کا تاثر درست نہیں۔

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے حال ہی میں اپنا استعفیٰ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بھجوایا تھا، استعفے میں یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں مسلسل دباؤ اور احتجاج کا حوالہ دیا، تاہم استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور ہونے تک وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین مہدی کے استعفے کے معاملے نے یونیورسٹی میں انتظامی فیصلوں، ملازمین کے معاملات اور ادارے کے اندر جاری اختلافات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب بعض برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق معاملہ یونیورسٹی کی سینیڈیکیٹ میٹنگ میں زیر بحث آیا۔

رپورٹس کے مطابق وائس چانسلر نے مختلف ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں مبینہ طور پر غیرحاضری، یونیورسٹی میں منشیات کے استعمال اور ’گھوسٹ ملازمین‘ سے متعلق الزامات شامل تھے، انتظامی فیصلے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونے چاہئیں اور ملازمین کے دباؤ کے تحت فیصلے کرنا ادارے کی انتظامی اتھارٹی کو متاثر کرسکتا ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی کے اندر رجسٹرار سے متعلق بھی احتجاج اور مطالبات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ بعض ملازمین کی جانب سے رجسٹرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے بعض الزامات پر کارروائی بھی کی گئی ہے۔

وائس چانسلر کے استعفے کے بعد سیاسی مداخلت کے معاملے پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم سندھ کے وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت جامعات کے معاملات میں سیاسی مداخلت نہیں کررہی اور وائس چانسلرز کی تقرریاں میرٹ کے اصول کے تحت کی جارہی ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے جامعات کے انتظامی اور مالی معاملات کی نگرانی کے لیے مختلف قانونی و انتظامی فورمز پہلے سے موجود ہیں۔ صوبے کی سرکاری جامعات میں سینیٹ، سینیڈیکیٹ اور دیگر قانونی ادارے انتظامی، مالی اور تعلیمی امور سے متعلق فیصلوں میں کردار ادا کرتے ہیں۔

رواں سال بھی سندھ حکومت کی جانب سے مختلف جامعات کے معاملات میں انتظامی نگرانی اور انکوائری کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی یونیورسٹی میں طلبہ کے درمیان تصادم کے معاملے کی تحقیقات کے لیے صوبائی حکومت نے ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کی تھی، جس کی سربراہی اس وقت بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی کو سونپی گئی تھی۔

اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ جامعات میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرریاں اہلیت، تجربے اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جارہی ہیں اور اس حوالے سے کسی سیاسی دباؤ کو فیصلہ سازی کا حصہ نہیں بنایا جارہا۔

دوسری جانب ڈاکٹر حسین مہدی کے استعفے سے متعلق سامنے آنے والے مؤقف اور یونیورسٹی میں ملازمین کے معاملات پر جاری اختلافات نے جامعات میں انتظامی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ اس معاملے پر حتمی صورتحال سندھ حکومت کی جانب سے استعفے پر کیے جانے والے فیصلے اور یونیورسٹی کے اندرونی معاملات کی مزید وضاحت کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔

فی الحال سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ استعفے کا جائزہ قانون کے مطابق لیا جائے گا، جبکہ صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز نے جامعات میں سیاسی مداخلت کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے وائس چانسلرز کی تقرریوں کو میرٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔