منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فی لیٹر پیٹرول پر 135 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز ختم کیے جائیں، بصورت دیگر جماعت اسلامی پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ لانگ مارچ شروع کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی وزیراعظم شہباز شریف کے وعدے کی پابند نہیں ہے اور اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو ملتان سے دوبارہ زیادہ پُرزور لانگ مارچ شروع کیا جائے گا، جس میں سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے قافلے شریک ہوں گے، جب کہ لاہور پہنچ کر یہ ایک بڑے کارواں کی شکل اختیار کرے گا۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق خیبرپختونخوا سے بھی قافلے اسلام آباد پہنچیں گے، مختلف شہروں میں جلسے جاری ہیں جب کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف دستخطی مہم بھی چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت دو کروڑ سے زائد دستخط حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف وطن واپس پہنچ چکے ہیں اور اب دیکھا جائے گا کہ حکومت عوام کو کیا ریلیف دیتی ہے، تاہم ٹال مٹول قبول نہیں کی جائے گی۔
جماعت اسلامی کے امیر نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی نااہلی کی سزا عام آدمی کو دی جا رہی ہے اور آمدن کے اہداف پورے کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی اخراجات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں کم کریں، عوام ان کی شاہ خرچیوں کا بوجھ برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی ایم ایف کی اجازت سے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا؟ شنگھائی کانفرنس کے لیے 6 ارب روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں، کانفرنس کے بعد ان گاڑیوں کا استعمال کون کرے گا؟
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے شعبے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ ہے جب کہ طلب تقریباً 18 ہزار میگاواٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کا ایک بڑا حصہ پانی، کوئلے اور دیگر نسبتاً سستے ذرائع سے پیدا کیا جا رہا ہے، تو پھر آئی پی پیز کو تیل اور گیس کی سپلائی کیوں کی جا رہی ہے اور عوام سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کیوں وصول کیے جاتے ہیں۔ حکومت آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں اربوں روپے ادا کر رہی ہے جب کہ اس کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں آئی پی پی، ریفائنری، گندم، آٹا اور شوگر ملز مافیا کے اثر و رسوخ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں ان مافیاز کے خلاف بات نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے حکومت کو فیول کنزمپشن میں 152 ارب روپے اور پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کمی کا کہا ہے، تاہم حکمران اس جانب توجہ نہیں دے رہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی اطلاعات کی بھی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی ہے جب کہ آزاد کشمیر سے بھی اچھی خبریں نہیں آرہیں، ایسے حالات میں طاقت کے ذریعے خیبرپختونخوا میں کسی بھی قسم کا غیر آئینی اقدام عوام کو مزید بدظن کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پاکستان تحریک انصاف سے بات کرنی چاہیے اور اگر حکومت خود کو بند گلی میں محسوس کر رہی ہے تو مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اس معاملے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطے میں بھی ہے۔ جماعت اسلامی تحریک انصاف کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے صومالیہ میں بحری قذاقوں کی فائرنگ سے تین پاکستانیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی، لیکن حکومت نے اس معاملے میں مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران قذاقوں نے تین پاکستانیوں کو شہید کردیا، تاہم شہادتوں کے بعد بھی حکومت نے متاثرہ خاندانوں سے رابطہ نہیں کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہداء کی لاشیں پاکستان واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے۔







