گلوبل مینٹل ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران تشویشناک صورتحال اختیار کرچکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے موجودہ طریقہ کار کافی نہیں، معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کی کمی کے باعث متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت کے مسائل کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات خاندان، معاشرے، معیشت اور مجموعی طور پر ریاستی نظام پر بھی پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے اور بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ذہنی صحت کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جانے چاہئیں اور اس حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت سے متعلق مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی بروقت نشاندہی، مشاورت اور علاج کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ذمہ داری صرف وزارتِ صحت یا طبی ماہرین تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کونسلر سے لے کر وزیراعظم تک ہر سطح پر ذہنی صحت کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کے لیے مشاورتی اور طبی سہولیات تک رسائی آسان بنانا بھی ضروری ہے جو ذہنی دباؤ یا دیگر مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ذہنی صحت سے متعلق پالیسی، آگاہی اور علاج کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبے میں موجود خلا کو کم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت، طبی ماہرین، تعلیمی اداروں، معاشرے اور دیگر متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی ذہنی صحت کے بحران کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔