اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں اور جماعت اسلامی نے اپنے مطالبات وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مزید 7 سے 10 دن دینے کی درخواست کی ہے، جس کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیاں دوبارہ بات چیت کریں گی تاکہ عوام کو ریلیف دینے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کو بھتہ سمجھتی ہے اور اس کا مؤقف واضح ہے کہ لیوی ختم ہونی چاہیے۔ حکومت نے اسے مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کی، لیکن جماعت اسلامی نے مکمل خاتمے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو 7 سے 10 دن کی مہلت ضرور دی گئی ہے، تاہم اسلام آباد مارچ کا فیصلہ برقرار ہے اور یہ مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ ملتوی نہیں کرے گی اور اگر عوام کو ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ ضرور کیا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مذاکرات کو ناکام نہیں سمجھتے، حکومت نے مؤقف سے اتفاق کیا ہے، تاہم مذاکرات جاری رہنے کے باوجود مارچ کی تیاری بھی جاری رہے گی۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی نااہلی کا بدلہ مظلوم عوام سے نہ لے۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں طویل دھرنے دیے اور ان کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملا۔ جماعت اسلامی نے حکومت پر دباؤ ڈال کر عوامی مسائل کے حل کے لیے کوششیں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کرنا جماعت اسلامی کا حق ہے اور دیگر لوگوں کو بھی اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ جماعت اسلامی اپنی کوششیں کر رہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف دینے کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔