منڈی بہاؤ الدین کی یونیورسٹی آف رسول میں ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حکومت خوف کے ماحول میں نہیں چلائی جا سکتی، بلکہ اصول واضح اور یکساں ہونے چاہییں، قانون پر عمل درآمد کے معاملے میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور جرائم میں ملوث افراد کو ان کی سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جا سکتی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے خواتین پر تشدد کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بائیک سوار خاتون پر تشدد کے معاملے میں انہوں نے متاثرہ بچی سے کہا تھا کہ جس شخص نے اسے تھپڑ مارے، وہ بھی اسے اتنے ہی تھپڑ مارے۔ انہوں نے پیٹرول پمپ پر تشدد کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر بھی ان کا مؤقف یہی تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور دوسروں کی تذلیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت مظلوم افراد کے ساتھ کھڑی ہے اور خواتین سمیت کسی بھی شہری کی عزت پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، کسی شخص کا بااثر ہونا اسے قانون سے بالاتر نہیں بنا دیتا، اس لیے تشدد اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ضمانت کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض جرائم میں ملوث افراد اگلے ہی روز ضمانت حاصل کر لیتے ہیں، اگر ضرورت پیش آئی تو وہ اس معاملے پر چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے بھی ملاقات کریں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے قانونی اور عدالتی معاملات پر توجہ دینا ضروری ہے۔

تقریب کے دوران مریم نواز نے طالبات کے لیے الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹیز فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ طالبات کو تعلیم کے حصول اور روزمرہ آمدورفت میں سہولت ملے اور انہیں آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع میسر آئیں۔ انہوں نے طالبات سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ نوجوانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں، حتیٰ کہ ان کے لیے چاند ستارے بھی لے آئیں۔

مریم نواز نے ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کو طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ تقریب میں اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کے ساتھ طالبات کے لیے سفری سہولتوں سے متعلق اعلان بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ جرائم کے خلاف کارروائی میں سیاسی وابستگی، اثر و رسوخ یا کسی اور بنیاد پر رعایت نہیں ہونی چاہیے، جبکہ طالبات کی تعلیم اور آمدورفت میں سہولت فراہم کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔