ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے حساس معاملے پر جلد بازی یا سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کے بجائے پارلیمانی فورم پر جامع اور بامقصد بحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا اہم ہے، کیونکہ صوبوں کی تشکیل سے متعلق فیصلوں کے اثرات ملک کے آئینی، انتظامی اور سیاسی ڈھانچے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اگر کوئی نئی ترمیم لائی جاتی ہے تو وہ 28ویں آئینی ترمیم ہوگی، اس حوالے سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ مجوزہ آئینی ترمیم کا دائرہ کار کیا ہوگا اور اس میں کن معاملات کو شامل کیا جائے گا۔ یہ بھی طے کرنا ضروری ہے کہ آیا نئی ترمیم میں صوبوں کی تشکیل کا معاملہ زیرِ غور آئے گا یا دیگر قومی اور آئینی امور کو اس کا حصہ بنایا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مختلف معاملات پر مشاورت اور مذاکرات ہوتے رہتے ہیں، تاہم صوبوں کی تشکیل جیسے اہم معاملے کو معمول کی سیاسی سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، ایسے فیصلوں میں عوامی خواہشات، قومی مفاد اور آئینی تقاضوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کے معاملے پر کسی قسم کی بارگیننگ کرنا ملک کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس موضوع پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور پارلیمنٹ میں بحث کے ذریعے ایسا راستہ تلاش کریں جس پر وسیع تر اتفاقِ رائے قائم ہو سکے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کی صورتِ حال سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ صوبے کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں، خیبر پختونخوا میں ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں میں مسلح افواج کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی سطح پر تعاون اور صوبے کی ترقی دونوں اہم معاملات ہیں، خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے کوششوں کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی ضروریات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ کے بیان میں نئے صوبوں کی تشکیل، آئینی ترمیم کے ممکنہ دائرہ کار اور خیبر پختونخوا کی ترقی و سیکیورٹی سے متعلق حکومتی ترجیحات پر زور دیا گیا ہے، نئے صوبوں کے معاملے پر کوئی بھی فیصلہ پارلیمانی بحث، سیاسی مشاورت اور عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔







