اسلام آباد میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کئی نسلوں پر محیط ایک قیمتی اثاثہ ہے، جسے نئی نسل تک منتقل کرنا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، دوطرفہ تعلقات کو صرف حکومتی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے میڈیا، تجارت، تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز اور نوجوانوں کے درمیان روابط کو بھی فروغ دینا ضروری ہے تاکہ عوامی سطح پر تعاون مزید مضبوط ہو سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں رابطہ محض معلومات کے تبادلے کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی شناخت اور بیانیے کی خودمختاری سے بھی جڑا ہوا ہے، جو قوم اپنی کہانی خود بیان نہیں کرتی، اس کے بارے میں دوسروں کے پیش کردہ مؤقف کو اہمیت ملنے لگتی ہے۔ اسی لیے پاکستان اور چین کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ ابلاغ اور مستند خبروں کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق سی پیک نے گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کو عملی شکل دی اور توانائی، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت کی بنیاد فراہم کی، سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں سڑکوں، توانائی کے منصوبوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان رابطے مضبوط ہوئے، جبکہ اب تعاون کے اگلے مرحلے میں ترقی، روزگار، جدت، ٹیکنالوجی اور ماحول دوست معاشی سرگرمیوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے بقول سی پیک 2.0 کا مقصد نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور دوطرفہ شراکت داری کو مزید وسعت دینا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کو چار بنیادی شعبوں، یعنی میڈیا، تجارت، تھنک ٹینکس، اور ثقافت، سیاحت و نوجوانوں کے درمیان روابط کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے، ان شعبوں کے ذریعے دونوں ممالک میں معلومات کی فراہمی، تجارتی روابط، مشترکہ تحقیق اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا۔
میڈیا کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے 18 اداروں پر مشتمل نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ قائم ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے میڈیا ادارے تصدیق شدہ خبریں اور معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، گمراہ کن معلومات اور غلط خبروں کی نشاندہی کرنے کے لیے حقائق کی جانچ پڑتال کا نظام بھی موجود ہے، جس کا مقصد مستند معلومات کی فراہمی اور غلط معلومات کے اثرات کو کم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کراچی میں پہلا علاقائی دفتر قائم کیا جا چکا ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک تجارتی پورٹل تیار کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع، کاروباری سرگرمیوں اور دوطرفہ تجارت سے متعلق معلومات تک رسائی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق پوڈکاسٹ سیریز کے ذریعے پاکستان میں کام کرنے والے چینی کاروباری افراد اور چین میں کامیابیاں حاصل کرنے والے پاکستانی تاجروں کی کہانیاں بھی اجاگر کی جا رہی ہیں، ایسی سرگرمیوں سے کاروباری تجربات کے تبادلے، سرمایہ کاری کے مواقع کی شناخت اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بہتر فہم پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انفارمیشن کوریڈور میں تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں کا کردار بھی اہم ہوگا۔ مشترکہ تحقیق، علمی مکالمے اور اشاعتوں کے ذریعے پاکستان اور چین کے ماہرین مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھا سکیں گے، پالیسی سازی، معاشی ترقی، علاقائی تعاون اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر علمی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
ثقافت اور سیاحت کے شعبے میں تعاون سے متعلق بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے درمیان سیاحتی راہداری پر کام جاری ہے، اس منصوبے سے چینی سیاحوں کے لیے پاکستان کے شمالی علاقوں تک رسائی کے مواقع بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک چین دوستی کے یادگاری سال کے موقع پر دوستی ریلی منعقد کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قربت اور دوستی کو اجاگر کرنا ہے۔
نوجوانوں کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی 68 فیصد سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، اس لیے نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے مواقع سے منسلک کرنا ضروری ہے، ملک بھر کی 13 جامعات سے نوجوانوں کو یوتھ ایمبیسیڈرز کے پہلے گروپ کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جن کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور عوامی روابط کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی آئی ٹی طلبا کو جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی اور مہارتوں کے حصول کے لیے وظائف فراہم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کے مطابق علی بابا گروپ کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد بھی جاری ہے، جسے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے چینی میڈیا اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز، کاروباری اداروں اور نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کریں، پاکستان اور چین نے قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے ذریعے جغرافیائی فاصلے کم کرنے کی مثال قائم کی، جبکہ اب معلومات، سچائی اور رابطے کی بنیاد پر دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عطا اللہ تارڑ کے بقول، سی پیک نے پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ ترقی کے سفر کو مضبوط بنیاد فراہم کی، جبکہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور اس شراکت داری کو عوامی رابطوں، معلومات کے تبادلے اور باہمی اعتماد کی نئی جہت دے گا، دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مستقبل کی نسلوں تک پہنچانے کے لیے معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ ابلاغ، تعلیم، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں روابط کو بھی مسلسل وسعت دینا ہوگی۔







