میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا خیال تھا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی اور اس سے جڑے سیاسی معاملات میں انہیں بھی شریک رکھا جائے گا، لیکن عملی طور پر انہیں اس عمل سے باہر رکھا گیا۔ وزیر دفاع کے مطابق یہی صورتحال مولانا کی موجودہ سیاسی مایوسی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور ملکی سیاست میں طویل عرصے سے اہم کردار ادا کرتے آرہے ہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں حالیہ سیاسی تبدیلی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق معاملات میں وہ اپنی سیاسی حکمت عملی کو مؤثر انداز میں آگے نہیں بڑھا سکے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو توقع تھی کہ صوبے میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے نتیجے میں ان کے لیے بھی کوئی سیاسی گنجائش پیدا ہوگی اور انہیں نئے انتظامی و سیاسی سیٹ اپ میں اہمیت دی جائے گی، لیکن نتائج ان کی توقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ گزشتہ 15 روز سے ایک ماہ کے دوران مولانا فضل الرحمان کے سیاسی رویے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے لیے حکومتی حلقوں سے ان کے رابطوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق مولانا یہ سمجھ رہے تھے کہ سیاسی محاذ آرائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا فائدہ انہیں پہنچے گا، تاہم ایسا نہ ہونے پر ان کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔

وزیر دفاع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی ناراضی اور مایوسی کا اظہار قومی اسمبلی میں ان کی حالیہ تقریر اور گفتگو کے انداز سے بھی نمایاں تھا، مولانا فضل الرحمان نے سیاسی حالات کے حوالے سے جس انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی بندوبست میں اپنے کردار اور اہمیت سے مطمئن نہیں ہیں۔

خواجہ آصف نے اپنے تبصرے میں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خیبرپختونخوا میں سیاسی تبدیلی کے معاملے پر وہ اپنے سیاسی پتے درست انداز میں نہیں کھیل سکے، ایک تجربہ کار سیاستدان ہونے کے باوجود اس معاملے میں مولانا سے سیاسی غلطی ہوئی۔

واضح رہے کہ خواجہ آصف کے یہ بیانات مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی اور خیبرپختونخوا کے نئے سیاسی سیٹ اپ میں ان کے کردار سے متعلق ان کی ذاتی رائے اور تجزیے پر مبنی ہیں۔