رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی روزانہ کی بنیاد پر انتہائی محدود آمدن پر گزارا کررہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے افراد کی شرح 23 فیصد رہی، جبکہ ایسے افراد کی مجموعی تعداد 5 کروڑ 76 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔

ورلڈ بینک کے مطابق اگر روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے افراد کو دیکھا جائے تو پاکستان میں ان کی تعداد 12 کروڑ سے زیادہ بنتی ہے، جو مجموعی آبادی کا تقریباً 47.9 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی اس آمدن کی حد سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ روزانہ 8.30 ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے افراد کی تعداد تقریباً 21 کروڑ 88 لاکھ رہی، جو پاکستان کی مجموعی آبادی کا 87.1 فیصد بنتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آمدن کے مختلف پیمانوں کے تحت ملک کی بڑی آبادی کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

ورلڈ بینک نے پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں کثیرالجہتی غربت کی شرح 27.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس پیمانے میں صرف آمدن ہی نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں تک رسائی جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ دیہی آبادی میں غربت کی شرح 56.4 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 34.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو روزگار، آمدن، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے نسبتاً زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

ورلڈ بینک نے غربت میں اضافے کی وجوہات میں مہنگائی، معاشی سرگرمیوں کی سست روی اور عوام کی آمدن میں کمی کو نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں اضافے نے کم آمدن والے طبقے کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث گھرانوں کے لیے بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا۔

رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار پاکستان کو درپیش معاشی اور سماجی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ غربت میں کمی کے لیے آمدن کے مواقع بڑھانے، روزگار کی فراہمی، مہنگائی پر قابو پانے اور تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولتوں تک عوام کی رسائی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک کی جانب سے غربت کی شرح کے مختلف اعداد و شمار مختلف آمدنی کی حدود اور پیمانوں کے تحت مرتب کیے جاتے ہیں، اس لیے ان کا تقابل کرتے وقت متعلقہ معیار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔