پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کی تازہ تحقیق کے مطابق دو نئے صوبے بنانے کی صورت میں سالانہ 47 سے 57 ارب روپے تک اضافی اخراجات آسکتے ہیں، جب کہ ملک کے 30 ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دینے کی صورت میں یہ لاگت 610 سے 730 ارب روپے سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔
تھنک ٹینک کے مطابق ایک نئے صوبائی حکومتی ڈھانچے پر سالانہ تقریباً 22.4 ارب روپے سے 25.9 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس میں گورنر، وزیراعلیٰ، صوبائی اسمبلی، سیکریٹریٹ، ہائی کورٹ اور دیگر بنیادی اداروں کے اخراجات شامل ہیں۔
چھ صوبوں کی صورت میں وسائل کی تقسیم
تحقیق میں موجودہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) فارمولے کے تحت چھ صوبوں کی ممکنہ مالی تقسیم کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تخمینے کے مطابق جنوبی پنجاب کو تقریباً ایک ہزار ارب روپے جب کہ بہاولپور کو 537 ارب روپے سالانہ مل سکتے ہیں۔
اس کے برعکس 30 صوبے بنانے کی صورت میں وسائل کی تقسیم میں نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ لاہور کے لیے 7 ہزار 201 ارب روپے اور کراچی کے لیے 691 ارب روپے کی ممکنہ رقم ظاہر کی گئی ہے، جب کہ لورالائی کو 46 ارب اور ژوب کو 50 ارب روپے ملنے کا تخمینہ ہے۔
تحقیق کے مطابق مجوزہ 30 صوبوں میں سے 11 کو سالانہ 150 ارب روپے سے کم وسائل ملیں گے۔
چھوٹے صوبوں پر انتظامی اخراجات کا زیادہ بوجھ
پرائم کے مطابق اگر صوبائی حکومت کے بنیادی انتظامی اخراجات کو این ایف سی سے ملنے والے وسائل کے 10 فیصد کی حد پر پرکھا جائے تو مجوزہ 30 صوبوں میں سے 16 اس حد کے اندر رہیں گے، جب کہ 14 صوبوں کے اخراجات اس سے بڑھ جائیں گے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کم آبادی والے علاقوں میں یہ بوجھ کہیں زیادہ ہوگا۔ کم لاگت کے تخمینے کے تحت لورالائی کے ممکنہ این ایف سی حصے کا تقریباً 49 فیصد، ژوب کا 45 فیصد اور رخشان کا 37 فیصد صرف بنیادی صوبائی حکومتی ڈھانچے پر خرچ ہوسکتا ہے۔
مزید یہ کہ 12 لاکھ سے کم آبادی والے ہر مجوزہ صوبے کو اپنے این ایف سی حصے کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ صوبائی حکومت کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے درکار ہوگا۔
نئے صوبے یا مضبوط بلدیاتی نظام؟
تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے پہلے اس کے مستقل مالی اخراجات کا باقاعدہ تخمینہ لگانا ضروری ہے۔ اس میں ہر مجوزہ صوبے کے انتظامی ڈھانچے، اداروں کے اخراجات اور این ایف سی کے تحت متوقع وسائل کا جائزہ شامل ہونا چاہیے۔
تحقیق کے مطابق نسبتاً بڑے صوبوں کی محدود تشکیل سے مالی بوجھ کم رہ سکتا ہے، لیکن چھوٹے ڈویژنوں کو صوبوں میں تبدیل کرنے سے ان کے دستیاب وسائل کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات کی نذر ہوسکتا ہے۔
پرائم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر نئے صوبوں کے قیام کا اصل مقصد عوام کو بہتر سرکاری خدمات فراہم کرنا ہے تو اس کے بجائے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔








