مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گل ریز میمن کی عدالت میں ہوئی، جہاں اقرار الحسن کی جانب سے ان کے وکیل نے ضمانت کی درخواست پر دلائل دیے۔ سیکیورٹی خدشات اور انتظامی وجوہات کے پیش نظر اقرار الحسن کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش کرنے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستِ ضمانت منظور کرلی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع ہونے پر اقرار الحسن کی رہائی یقینی بنائی جائے۔ عدالتی حکم کے بعد ان کی جیل سے رہائی کی راہ ہموار ہوگئی۔
سید اقرار الحسن کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں کراچی منتقل کردیا گیا۔ ان کے خلاف ریاست مخالف مواد کی مبینہ تشہیر کے الزام میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اقرار الحسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو کلپس اور پوسٹس کے ذریعے مبینہ طور پر غلط اور من گھڑت مواد پھیلایا، جس کا مقصد ریاستی اداروں، ان کے عہدیداروں اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانا تھا۔ تاہم یہ الزامات مقدمے کا حصہ ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ عدالتی کارروائی میں ہونا ہے۔
گرفتاری کے بعد اقرار الحسن کو مختلف مواقع پر جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل کراچی منتقل کردیا گیا تھا۔
اقرار الحسن کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ضمانت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ جس ویڈیو کے حوالے سے ان کے موکل کے خلاف کارروائی کی گئی، وہ پہلے ہی عوامی سطح پر زیرِ بحث تھی اور اس معاملے میں پیکا ایکٹ کے تحت جرم کے ارتکاب کے شواہد موجود نہیں۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مقدمے کے حالات اور دستیاب مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے اقرار الحسن کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل اور مقدمے کے دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سید اقرار الحسن کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی اور دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے پر ان کی فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔







