یہ 22 اکتوبر کی وہ منحوس دوپہر تھی جب 55 سالہ کاشتکار قاسم علی، ان کی اہلیہ حسنہ بی بی اور تینوں جوان بیٹےآصف، ناظم اور امانت پیٹ میں شدید مروڑ اور بے چینی کے عالم میں اپنے گاؤں کے اسی ' روحانی معالج' کے پاس پہنچے تھے۔ غریب اور سادہ لوح دیہاتیوں کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔

ماضی میں بھی جب کبھی اس گھرانے میں کسی کو بخار، پیٹ خراب یا سردرد ہوتا، تو پیر صاحب کے آستانے کا دم ہی ان کی ہر بیماری کا واحد علاج بنتا تھا۔ اسی پکے عقیدے اور اندھے اعتماد کے ساتھ، زہر کا شکار ہوئے پانچوں افراد پیر صاحب کے آگے سر تسلیم خم کیے بیٹھے رہے، جبکہ موت ان کے ارد گرد گھیرا تنگ کر رہی تھی۔

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جن جسموں میں زہر تیزی سے رگوں کو نکارہ کر رہا تھا، ان کے لیے دم درود کا یہ سلسلہ علاج نہیں بلکہ ہسپتال پہنچنے کے قیمتی لمحات ضائع کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔

اس المناک داستان کی شروعات اسی صبح ناشتے کے میز سے ہوئی تھی۔ چونکہ ان دنوں مونجی (چاول) کی فصل تیاری کے آخری مراحل میں تھی، اس لیے گھر کے چاروں مردوں نے علی الصبح کھیتوں میں کام پر جانا تھا۔ قاسم علی کی 52 سالہ اہلیہ حسنہ بی بی نے بڑے چاؤ سے پورے خاندان کے لیے میٹھی کھیر بنائی۔ سب نے پیٹ بھر کر کھیر کھائی اور مرد حضرات کھیتوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ لیکن دوپہر 12 بجے کے قریب اچانک ایک کے بعد ایک، تمام افراد کی طبعیت بگڑنا شروع ہوئی۔

اگر وہ اسی وقت ڈاکٹر کے پاس بھاگتے تو شاید بات سنبھل جاتی، لیکن توہم پرستی اور بروقت طبی سہولیات کی عدم دستیابی نے انہیں پیر صاحب کے آستانے پر باندھ دیا جہاں ایک دن، دو دن، اور پھر مسلسل تین دن تک زہر ان کے جسموں کو اندر سے چاٹتا رہا اور آستانے پر دم کا سلسلہ چلتا رہا۔

تین دن بعد، 25 اکتوبر کو جب ان کی حالت بالکل غیر ہو گئی اور جسم بالکل جواب دے گئے، تو گھبرا کر رشتہ دار انہیں 15 کلومیٹر دور کنگن پور ہسپتال لے گئے۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ کنگن پور کے ڈاکٹروں نے مریضوں کی نڈھال حالت دیکھ کر فوراً ڈی ایچ کیو قصور اور پھر وہاں سے جنرل ہسپتال لاہور ریفر کر دیا۔

25 اکتوبر کی شام جب ان پانچوں کو لاہور پہنچایا گیا تو زہر اپنا آخری کام کر چکا تھا۔ اسی رات سب سے پہلے 25 سالہ بیٹے ناظم علی نے دم توڑا۔ باقی چاروں کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا، مگر المیہ یہاں نہ رکا۔ اگلے دن 26 اکتوبر کو دونوں بیٹے28 سالہ آصف اور 15 سالہ امانت وفات پا گئے۔

27اکتوبر کو خاندان کے سربراہ قاسم علی بھی چل بسے اور 28 اکتوبر کو جب گاؤں کے قبرستان میں باپ بیٹوں کا ایک ساتھ جنازہ پڑھایا جا رہا تھا، تو لاہور سے خبر آئی کہ خاندان کی آخری زندہ بچنے والی حسنہ بی بی بھی زندگی کی بازی ہار گئی ہیں۔72 گھنٹوں میں ایک پورا ہنستا بستا گھرانہ شمع کی طرح بجھ گیا۔

اس خوفناک المیے کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ گاؤں میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ ناشتے میں بنائی گئی کھیر میں چھپکلی گر گئی تھی۔ قاسم علی کے رشتہ داروں کے مطابق، قاسم علی نے ہسپتال میں ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ کھیر میں چھپکلی گر گئی تھی جسے انہوں نے نکال کر پھینک دیا اور ارد گرد کی کھیر ضائع کر کے باقی کھا لی تھی۔ تاہم ہر شخص کی زبان پر یہی سوال تھا کہ ’آخر ایک چھپکلی میں کتنا زہر تھا کہ اس نے صحت مند انسانوں کی جان لے لی؟‘

قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) آفتاب احمد پھلروان اور ایس ایچ او وحید عارف کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ایک ہولناک حادثہ لگتا ہے۔ پولیس نے دفعہ 174 کے تحت قانونی کارروائی کرتے ہوئے چار لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا ہے (پہلے بیٹے کی تدفین پولیس کو بتائے بغیر کر دی گئی تھی)۔ کھیر اور جسمانی اجزا کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور بھیج دیے گئے ہیں تاکہ زہر کی اصل نوعیت معلوم ہو سکے۔

مگر اس حادثے کا سب سے تلخ اور شرمناک رخ وہ مجرمانہ غفلت ہے جو حکمرانوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالتی ہے۔ ایک طرف حکومت روزانہ میڈیا اور اشتہارات میں 'شاندار اور ترقی یافتہ پنجاب' کے بڑے بڑے دعوے کرتی تھکتی نہیں، لیکن کیا پنجاب کا مطلب صرف چند بڑے شہر یا لاہور کی جگمگاتی سڑکیں ہی ہیں؟ کیا کنگن پور اور اس کے گرد و نواح میں بسنے والے انسان کسی الگ درجے کے شہری یا 'شودر' ہیں جنہیں زندہ رہنے کے بنیادی انسانی اور طبی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے؟

اگر اس پسماندہ علاقے میں معیاری ہسپتال، تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور شعور بیدار کرنے والے تعلیمی ادارے موجود ہوتے، تو شاید یہ سادہ لوح خاندان توہم پرستی اور پیر پرستی کی دیمک کا شکار ہو کر اپنی جانیں نہ گنواتا۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو صحت اور تعلیم دینے میں ناکام ہو جائے تو لوگ مجبوری میں عاملوں اور پیروں کے آستانوں پر ہی سر ٹیکتے ہیں۔ اس ہنستی کھلکھلاتی زندگیوں والے خاندان کی موت کا حقیقی ذمہ دار صرف وہ زہر نہیں، بلکہ حکومت کی وہ مجرمانہ بے حسی ہے جس نے سرحدی اور کچے کے علاقوں کو قرونِ وسطیٰ کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر