ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی جائے گی، جبکہ نئے قائد ایوان کے نام پر بھی غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں حکومت کے اہم عہدوں کے لیے ناموں کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔

مری میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، حمزہ شہباز، وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر سینیئر رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

اجلاس میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے تمام نومنتخب ارکان اسمبلی کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے، جہاں انہیں حکومت سازی کے آئندہ مراحل سے متعلق اعتماد میں لیا جائے گا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قائد ایوان، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، صدر ریاست اور موسٹ سینیئر وزیر سمیت آزاد کشمیر حکومت کے اہم عہدوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ابتدائی مشاورت مکمل کرلی ہے۔ ان عہدوں کے لیے زیر غور ناموں کی حتمی منظوری نواز شریف کی جانب سے دیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو امیدواروں کے نام موصول ہو چکے ہیں۔ ٹیکنوکریٹ اور اوورسیز نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 6، خواتین کی 10 جبکہ علما کی نشستوں کے لیے 3 سے زیادہ امیدواروں کے نام پارٹی قیادت تک پہنچ چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آزاد کشمیر اسمبلی کے قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔

مری میں ہونے والا اجلاس اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے قیام، کابینہ کی تشکیل اور اہم آئینی و پارلیمانی عہدوں پر تقرریوں کے لیے پارٹی کی آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔